اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 474 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 474

474 بنا دیا جائے۔اس لئے وہ اب چاہتا ہے جسے اس نے پھول بنایا ہے، وہ پھول ہی رہے اور کوئی ریاست یا حکومت اسے کا نشا نہیں بنا سکتی۔یہ بہر حال پوری ہوگی ایک دن وہ پھول ہی رہے اور کوئی ریاست اور حکومت اسے کانٹا نہیں بنا سکتی۔روپیہ، چالا کی مخفی تدبیریں اور پروپیگنڈہ کسی ذریعے سے بھی اسے کا نشانہیں بنایا جا سکتا۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے اس لئے کشمیر آزاد ہوگا، اور اس کے رہنے والوں کو ضرور ترقی کا موقع دیا جائے گا۔“ (المبشرات) یہ 1932 ء کی پیشگوئی ہے اور یہ پوری ہو کے رہے گی۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے احمدی ہر وقت یہ دعائیں کر رہے ہیں۔آگے پہلی تحریک حریت کشمیر کے متعلق رویا و کشوف“ کا عنوان دے کر پھر انقلاب کے حوالہ سے حضور کے رویا و کشوف بیان کئے ہیں۔ھر شیر کمیٹی کے وجد کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے اپیل کرنے پر کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مظلوم کشمیریوں کی حفاظت کے لئے اور ان کی آواز کو بلند کرنے کے لئے اور ان کی مدد کے لئے جمع ہو جائیں۔آگے ذکر کیا ہے مسلمانوں کے کشمیری لیڈروں کا جن میں سرا قبال ، نواب ابراہیم صاحب آف کنج پورہ ، سر ذوالفقار علی خان، خان بہادر شیخ رحیم بخش ،سید حسن شاہ صاحب ایڈووکیٹ (ان کے بیٹے نسیم حسن شاہ صاحب پاکستان کے چیف جسٹس تھے ) سید کشفی صاحب ( ان کے بیٹے سید محمد ظفر۔ایس ایم ظفر صاحب ، بہت مشہور ایڈووکیٹ ہیں۔) ، خواجہ حسن نظامی صاحب اور سید حبیب مدیر سیاست، مولانا حسرت موہانی وغیرہ شامل ہیں۔سید کشفی صاحب حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ کشمیر کمیٹی میں تھے۔یہ رنگون میں رہتے تھے۔جناب ایس ایم ظفر صاحب کے والد سید کشفی۔سید محمد محسن شاہ صاحب ایڈووکیٹ بھی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ممبر تھے اور جسٹس سید نسیم حسن شاہ صاحب انہی کے فرزند ہیں۔تو حضور کی اپیل کا ذکر کرتے