اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 469
469 شکلات کا موجب بنے گا اور خود ان کے مقاصد کی تکمیل میں بھی حائل ہو جائے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا کہ بظاہر یہ بڑی معقول تجویز ہے کچھ دن انتظار کیا جائے۔اب یہ ظاہر بات ہے کہ زیادہ دیر تک کوئی حکومت یہ پسند نہیں کرتی کہ اس کی بدنامی کے دن ایسے لمبے ہوں کہ لوگوں میں یہ چر چا ہو کہ یہ حکومت ناکام ہوگئی اور قتل عام ہو رہا ہے اور یہ حکومت کچھ نہیں کر رہی جلاد ہے اور قصاب ہے۔پس چند دن کے بعد ہی کشمیر گورنمنٹ ،اس کے وزیر اعظم ، اس کے کارندوں نے ، اس کے پریس کے نمائندوں نے ، اس کی ایجنسی کے نمائندوں، نے یہ اعلان کیا کہ اب صورتحال قابو میں ہے اور فساد بھی ختم ہو چکے ہیں۔پس یہ خبر جب پریس میں آئی تو حضور نے حضرت مولانا درد صاحب سے کہا کہ اب آپ لکھیں۔مبارک باد بھی دیں کہ اب صورتحال بدل گئی ہے اور ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔اب آپ بتائیں اس امن کی صورت میں آپ کیا تاریخ مقررفرماتے ہیں۔اس کا جواب بذریعہ تاریہ آیا کہ وقتی طور پر یہ فتنہ دب گیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ ڈیپوٹیشن کے پہنچنے کے بعد پھر اشتعال پیدا ہو جائے۔بس اس خط کے آنے کی بات تھی ، حضور نے دوبارہ حضرت درد صاحب کوارشاد فرمایا کہ آپ سیکرٹری کی حیثیت سے اور میرے نمائندے کی حیثیت سے وائسرائے صاحب سے وقت لیں۔درد صاحب نے وقت لیا، وہاں پہنچے اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی کہ آپ کے حکم کے ماتحت ہم نے وزیر اعظم کو اور مہاراجہ صاحب کو یہ لکھا تھا۔ان کا یہ جواب آیا کہ اس وقت ہنگامے ہور ہے ہیں۔ہم نے کہا بالکل ٹھیک ہے ایسے موقع پر آپ کی شرائط کا ہم احترام کرتے ہیں۔اب اس کے بعد اعلان ہوا کہ اب ہنگا مے ختم ہو گئے ہیں اور حالات قابو میں ہیں اور کوئی فتنہ کہیں نہیں ہے۔نہ جموں میں ، نہ سری نگر میں ، نہ پونچھ میں۔تو اب آپ مہربانی کر کے تاریخ مقرر فرما ئیں تو اب جواب یہ آیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے آنے سے پھر اشتعال پیدا ہو جائے۔اب سوال یہ ہے کہ مہاراجہ صاحب نے انکار کیا اُس وقت اس وجہ سے کہ اب فسادات ہو رہے ہیں۔اب انکار ایسے وقت میں کیا ہے کہ فسادات ختم ہو چکے ہیں مگر ہو سکتا ہے کہ دوبارہ شروع ہو جائیں۔تو اب وہ کون سا وقت آئے گا جب کہ ایک غیر جانبدار ڈ پیوٹیشن وہاں جا کر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حال کا جائزہ لے سکے۔یہ ایسی زبر دست بات تھی کہ اس نے ہلا دیا وائسرائے کو۔اس کے نتیجہ میں پھر اُسے مداخلت کرنی پڑی۔