اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 470 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 470

470 پریم ناتھ بزاز کی چشم کشا تحریر اس کے علاوہ دیکھیں آپ۔میرے پاس کشمیر کے بہت ہی نامور ہسٹورین کی کتاب ہے The History Of Struggle For Freedom In Kashmir The Culture And Political From The Earliest Times To The Present Day۔یعنی ابتدائی ایام سے لے کر اس وقت تک کے جو حالات ہیں وہ انہوں نے وہ پوری طرح اس شامل کئے ہیں۔پریم ناتھ بزاز بہت ہی عظیم الشان اور نامور انسان ہیں اور حقیقتا مسلمان کشمیری لیڈروں کی طرح یہ شخص پوری طرح پوری زندگی مسلمانوں کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔اور سرفروشانہ طور پر ہر موقع پر اس نے مسلمانوں کے Cause کو ترجیح دی ہے۔ان کی اس کتاب کا ایک نیا ایڈیشن چھپا ہے جس کے ناشر کشمیر پبلشنگ کمپنی 122 کو ٹلہ مبارک پور نیو دبلی ہیں۔اس ایڈیشن کے صفحہ 620-621 پر انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کا بھی ذکر کیا ہے۔اور بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔اس کے علاوہ پارٹیشن کے بعد جب آزاد کشمیر حکومت قائم ہوئی ، اس کی تفصیل بھی اس میں بڑی وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔میں عرض کرتا ہوں اس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلیدی کردار تھا اور جو آزاد کشمیر حکومت (کشمیر حکومت کہنا چاہئے ) اس وقت راولپنڈی میں اناؤنس کی گئی ، اس کے صدر بھی احمدی تھے جناب خواجہ غلام نبی گل کار صاحب۔انور کے نام سے میڈیا میں ان کا ذکر آتا تھا۔اس ضمن میں بھی شاید پریم ناتھ بزاز نے اپنی اس کتاب میں ذکر کیا ہے۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ آپ کے سامنےصفحہ 620اور 621 ہے۔بڑی لمبی عبارت ہے۔اس میں انہوں نے صاف لکھا ہے کہ 3 اکتوبر 1947ء کو راولپنڈی کے پیرس ہوٹل میں عبوری حکومت قائم کی گئی۔اس کے پیچھے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد تھے اور سب سے پہلے اس کی چارا کتوبر کو نا ونسمنٹ کی گئی۔یہ سب سے پہلا دن ہے آزاد کشمیر کا! لکھتے ہیں کہ خواجہ غلام نبی گل کار اس کے سب سے پہلے صدر تھے۔اور اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ حالات چونکہ مخدوش تھے اس لئے ان کا نام انور رکھا گیا۔اور اس دوران پھر جن جن کشمیری