اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 466
466 اگر چہ ہو چکی تھی۔مگر اس تحریک کی زیادہ سے زیادہ آواز سنائی دیتی تھی تو کشمیر سے باہر ہندوستان کے بعض علاقوں میں سنائی دیتی تھی۔مگر ولایت تک کی دنیا میں اس کی گونج جو ہوئی ہے وہ رہین منت ہے صرف آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کی۔یہ ان کی کتاب کے صفحہ 111-112 پر موجود ہے۔فرماتے ہیں:۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی معرفت ہماری شکایات سمندر پار کے ممالک میں زبان زد ہر خاص و عام ہوگئیں۔“ چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لنڈن انگلستان کا مشن موجود تھا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درڈ پہلے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری تھے اور اس کے بعد وہاں تشریف لے گئے۔ان کے ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کے ممبروں کے ساتھ انتہائی گہرے تعلقات تھے۔تو چوہدری غلام عباس صاحب لکھتے ہیں:۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی معرفت ہماری شکایات سمندر پار کے ممالک میں بھی زبان زد ہر خاص و عام ہو گئی۔اس نزاکت حال کے پیش نظر حکومت کشمیر کے لئے ہماری شکایات کو ٹالنا اور بزور طاقت عمومی محرکات کو بلا نتائج کچلتے چلے جانا مشکل ہو گیا۔“ کتنی بڑی اہمیت ہے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی اس بین الاقوامی کوشش کی۔لکھتے ہیں:۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پیہم اصرار کے باعث حکومت ہند کا معاملات کشمیر میں دخل انداز ہونا ناگزیر ہو گیا۔کشمیر کی سرحدات چین، روس جیسے اشترا کی ممالک سے ملتی ہیں لہذا اپنی فوجی اہمیت اور بین الاقوامی معاملات کے نقطہ نظر سے بھی ضروری ہو گیا کہ انگریز ریاست کے معاملات میں دخل ضرور ہی دے۔نومبر 1931ء کے آخری دنوں میں حکومت کشمیر کو مجبوراً مسلمانان ریاست کی شکایات اور مطالبات کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد