اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 465
465 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔جی۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جماعت احمدیہ کا جو کر دار تحریک آزادی کشمیر میں رہا ہے، پاکستان کے قیام سے قبل 1947 ء سے پہلے 1931ء یعنی پاکستان کے قیام سے قبل جو تحریک آزادی کشمیر تھی ، وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی رہین منت تھی۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔جی بالکل یہی بات ہے کہ حافظ محمدنصر اللہ صاحب :۔اور اس کے صدر حضرت خلیفہ آسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رہے ہیں تو اس بارے میں آپ کچھ دستاویزی ثبوت ناظرین تک پہنچادیں؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ بہت ہی اہم تاریخی سوال ہے جو آپ نے نئی نسل کے سامنے حقائق کو بیان کرنے کے لئے پیش فرمایا ہے جس کے لئے میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کو الفاظ نہیں پاتا۔حق یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی معنوں میں حضرت مصلح موعود ہی علمبردار تھے اور بحیثیت صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے، تمام آزادی جو انگریز کے زمانے میں ملی ، ہمارے کشمیری بھائیوں کو ٹلٹن کمیشن ، بلانٹ گلانسی کمیشن کے بعد اور دوسرے معاملات کے بعد ، ہزاروں روکوں کے باوجود وہ صرف آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور حضرت مصلح موعودؓ کے طفیل ہے۔یہ ایسے حقائق ہیں کہ اگر کوئی شخص کچھ بھی خدا کا خوف رکھنے والا ہو ، خدا ترس ہو تو وہ کسی مرحلے پر اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔اور حق یہ ہے کہ قیامت تک کوئی تاریخ آزادی کشمیر کی لکھی ہی نہیں جاسکتی جس میں حضرت مصلح موعودؓ کے عظیم کردار اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی شاندار خدمات کا ذکر نہ کیا جائے۔قائد ملت چوہدری غلام عباس صاحب کا حقیقت افروز بیان چوہدری غلام عباس، شیخ عبداللہ کی طرح صف اول کے عظیم کشمیری لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں۔قائد ملت بھی ان کو کہا جاتا ہے۔چوہدری غلام عباس صاحب نے اپنی آٹو بائیو گرافی (Autobiography) کشمکش کے نام سے لکھی، اردواکیڈمی لاہوری دروازہ لا ہور سے وہ چھپی ہے۔اس میں انہوں نے کھلے لفظوں میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ آزادی کشمیر کی ابتداء