اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 455
455 یہ طریق ٹھیک ہے۔بھیرہ بھی آنے والا تھا۔وہ خطرہ اس طرح ٹل گیا۔سبھی نے کہا ہاں مولوی صاحب آپ بتا ئیں۔تو میرے لئے یہ اپنی زندگی میں پہلا موقع تھا سوچنے کے لئے۔لیکن مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے اِنِّی مُعِيُنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَک جو مسیح موعود کی اعانت کا ارادہ بھی کرے گا خدا اس کی تائید کرے گا۔پس بجلی کی طرح میرے دل میں یہ خیال آیا۔خیال آتے ہی ان کی طرف سے پہلا سوال یہ ہوا کہ مولانا! آپ کا نظریہ کیا ہے کہ آنحضرت نور تھے یا بشر تھے۔تو میں نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ع نوری بشر تھے۔اب یہ ان کے لئے ایک بالکل جدید زاویہ نگاہ تھا۔کہنے لگے یہ تو ایک انوکھا نظریہ ہے جو آپ نے پہلی دفعہ پیش کیا ہے۔کبھی ہمارے علماء نے اس کو پیش نہیں کیا۔صلى الله میں نے کہا اصل ہے ہی یہی۔دیکھیں آنحضرت ﷺ کی خواب میں بھی کبھی آپ لوگوں نے زیارت کی ہے؟ کبھی نہیں کی۔تو بیداری میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آنحضرت علی حقیقت اور شخصیت خدا سے بڑھ کر کون جانتا ہے؟ جو خالق ہے۔اسی نے محمد عربی ﷺ کو شہنشاہ نبوت کی خلعت عطا فرمائی۔ختم نبوت کا تاج بخشا ہے۔شاہ دو جہاں کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔قرآن میں دونوں لفظ موجود ہیں۔بشر کا بھی قُلْ إِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : 111) اور نور کا لفظ بھی آتا ہے۔تو محض نور کہنا بھی غلط ہے۔محض بشر کہنا بھی غلط ہے۔قرآن کی رو سے محمد عربی علی نوری بشر تھے۔اور اس کے بعد جو میں نے جواب دیا وہ خدا ہی نے سمجھایا ، جس طرح ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ دعوت الی اللہ کے وقت سمجھاتا ہے۔میں نے کہا دیکھیں میں بریلوی بزرگ سے کہتا ہوں کیونکہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔تجربہ بھی ان کو ہے۔عالم دین ہیں اپنے فرقے کے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر فرقے کے علماء دین کا اعزاز اور اکرام اور احترام کریں۔یہ حضور کا ارشاد ہے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نو ر ہونے پر جو اصرار فرمارہے ہیں کبھی آپ یہ غور فرمائیں کہ شب معراج میں آپ کے ساتھ حضرت جبرائیل تھے۔ان کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ وہ نور تھے یا بشر تھے۔کہنے لگے وہ تو نور تھے۔میں نے کہا ایک موقعہ ایسا آگیا کہ جب جبرائیل نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ جا سکتے ہیں میں نہیں جا سکتا۔کہنے لگے ہاں آ گیا تھا۔میں نے کہا اگر محمد عربی ﷺ کو صرف نور کہا جائے تو پھر ان کا مقام حضرت