اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 454 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 454

454 دو میرا طریق یہ رہا ہے اور اب بھی ہے کہ میں جس جگہ یا شہر میں جاتا ہوں اگر وہاں کتابوں کا کوئی مرکز ہو تو کتا بیں ضرور خریدتا ہوں اور پھر یہ ہے کہ گھر آنے سے پہلے ایک نظر ضرور ان کو دیکھتا ہوں۔میرے پیارے دوست محمد شفیق قیصر صاحب جو ہمارے رشتہ دار بھی ہیں ان کا ایک مقولہ تھا۔”میں ایک کتاب خرید کے لایا ہوں ابھی میں نے سونگھنی ہے وہ۔‘ تو سونگھنا“ بڑی ضروری چیز ہے۔اس سے ایک خاکہ فوری طور پر دماغ پر آجاتا ہے۔پھر انسان کبھی بیٹھے تو اس کے مندرجات کے لئے اس کی فہرست پڑھے۔پھر اسی طرح Author (مصنف) کو پڑھ لے کبھی کوئی چیز پڑھے۔پھر اس کے بعد وہ بالالتزام پڑھے تو یہ آسانی کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔تو میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس وقت لیکن یہ علماء دونوں بریلوی اور دیو بندی مناظرانہ گفتگو کر رہے تھے۔آواز میں آتی تھیں میرے کان میں لیکن مجھے اپنے کام سے غرض تھی۔میں نے دیکھا کہ یکا یک جس طرح کہ ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے بڑی تیز گفتاری کا ، اور اس وقت وہ گویا میدان مناظرہ بنا ہوا تھا ، دونوں پہلوان اکھاڑے میں جس طرح کہ اترتے ہیں اور پھر بڑا شور و فغاں بلند ہوتا ہے۔اور کہ کیا رہے تھے بریلوی صاحب؟ یہ کہہ رہے تھے کہ آنحضرت علہ نور تھے اور دیو بندی یا غالبا وہ اہلحدیث تھے ان کا موقف یہ تھا کہ یہ شرک ہے۔وہ کہہ رہے تھے کہ تم گستاخ رسول ہو تم بشر کہتے ہو۔یہ کہتے تھے کہ تم مشرک ہو۔اب جس وقت Climax ( عروج) پر یہ معرکہ پہنچا، ان دنوں قتل و غارت بھی ہو چکی تھی۔غالباً منٹگمری میں بھی اسی وجہ سے مسجد میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا تھا ان ایام میں۔بریلوی اخبار اور شورش کا اخبار یہ دونوں آپس میں اس وقت ایک دوسرے کے مقابلے میں آرہے تھے۔اس زمانہ کے وہ اخبار بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔اور اس میں گالیاں بھی تھیں، شعروں میں گالیاں، نثر میں گالیاں۔دونوں ایک دوسرے کو ایجنٹ کہتے تھے۔دونوں گستاخ رسول قرار دیتے تھے۔اس وقت ایک نوجوان درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔اس نے نہایت ہی بصیرت سے اور ذہانت سے کام لیتے ہوئے دونوں علماء سے کہا کہ ایک مولانا صاحب یہ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ان سے پوچھیں ان کا نظریہ کیا ہے؟ اب اس موقع پر اس کا یہ کہنا ایسا مفید ثابت ہوا کہ لوگ جو بیٹھے ہوئے تنگ آگئے تھے۔مصیبت سمجھ کے ڈرر ہے تھے کہ شاید یہاں قتل و غارت ہی نہ شروع ہو جائے۔سبھی نے تائید کی کہ ہاں