اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 441 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 441

441 تو یہ خفیہ کا لفظ بھی جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ ایک سازش تھی۔جس طرح کہ احمدیوں کے مکانوں کو تو کھلے بندوں تباہ کیا جارہا تھا اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے "In Camera" کارروائی ہورہی تھی۔اب یہ ایک وضاحت جو میں نے عرض کی ہے۔اس کے بعد میں اس سلسلہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ایک کتاب جو میں نے دیکھی ہے غالبا وہ ملتان سے چھپی ہے So Called مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے۔مجھے اس سلسلہ میں یہ بھی یاد آیا۔حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ بہت بلند پایہ بزرگ تھے۔دس کروڑ دیوبندی ملاں بھی ان کی جوتیوں پر قربان کر دیئے جائیں تو ان کے لئے باعث سعادت ہے۔وہ اپنے مکتوب میں یہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک صاحب نظر نے دریا کے کنارے شیطان کو دیکھا۔اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔کہنے لگا میں شیطان ہوں۔کہنے لگے تمہیں تو قیامت تک کے لئے خدا نے ورغلانے اور گمراہ کرنے اور برائیاں پھیلانے کے لئے حکم دیا ہے۔تم آرام کے ساتھ چھٹی منا رہے ہو یہاں پر۔اپنا کام کرو۔کہنے لگا نہیں بات یہ ہے کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔میں نے اپنا سارا کام جو ہے وہ تکفیر گر ملاؤں کے سپر د کر دیا ہے۔“ مکتوبات امام ربانی جلد اول صفحہ 47 ناشر مطبع نامی گرامی منشی نولکشور کانپور ) اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جو نام نہاد کا رروائی ہے دراصل وہ ختم نبوت کے نام پر ایک نہایت شرمناک اور اخلاق سوز ڈرامہ ہے۔جس میں بھٹو سر کار کے شائع کردہ سرکلر کو پیش نظر رکھ کر اسمبلی کی کارروائیوں کی رپورٹنگ (Reporting) اپنے باطل نظریات کے مطابق ڈھالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔اور انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ اخلاق سوز ڈرامہ اسلام اور ختم نبوت کے نام پر کھیلا گیا ہے۔مولا نا فضل الرحمن صاحب کے والد مفتی محمود نے تو کہا تھا کہ میں پاکستان کے قیام کے گناہ میں شامل نہیں ہوں ( امروز یکم ستمبر 1975 صفحہ 8) اور فضل الرحمن نے یہ کہا کہ پاکستان فراڈ اعظم ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ اگ فراڈ اعظم کا لقب دیا جاسکتا ہے چپہلی صدی میں تو اس کتاب کو دیا جا سکتا ہے۔کیونکہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کے بارہ روزہ حقیقت