اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 432
432 سکالر تھے ، تو انہوں نے یہ سوچا کہ میں ایک ہزار سوال اگر بناؤں اور یہ دعویٰ نبوت کرنے والے اگر ان کا جواب دیں تو مجھے لازماً آپ کی بیعت کرنی چاہئے۔خیر انہوں نے ایک ہزار سوال بنایا اور اس کے بعد اپنی یہودی قوم کو جمع کیا اور کہا کہ یہ ہزار سوال میں نے اس لئے بنایا ہے کہ میں محمد ﷺ کے پاس جانا چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کا اگر صحیح صحیح جواب مجھے مل جائے تو میں ایمان لے آؤں گا۔سب نے کہا یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔اگر آپ ایمان لائیں گے تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ یہ پس منظر بیان کرنے کے بعد پھر وہ سوالات بنائے گئے ہیں، ان میں سے چار پانچ میاں صاحب! اس میں سے آپ کو اسی زبان میں بتا تا ہوں جوسنی اور شیعہ واعظ اور خطیب خطبے دیتے ہیں کیونکہ یہ قصے انہی کے لئے بنائے گئے ہیں کہ وہ خطبوں میں ان زٹلیات کو بیان کریں اور لوگوں کی دلچسپی کا موجب بنیں اور اس سے پھر لوگوں میں واہ واہ اور سبحان اللہ کے نعرے لگیں کہ علم و عرفان کے یہ تو پیکر ہیں اور علامہ دوراں“ اور ”غزالی زمان“ ہیں۔حضرت میاں صاحب کہنے لگے ہاں سناؤ۔تو میں نے انہی کی زبان اور لب ولہجہ استعمال کرتے ہوئے وہ سوال و جواب دہرانے شروع کئے۔عبداللہ بن سلام نے یہ سوال کیا زمین کی صفت کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ زمین چپٹی ہے۔عبداللہ بن سلام نے یہ بات کہی کہ زمین کسی جگہ پر کھڑی ہے؟ فرمایا رسول اللہ نے کہ تحقیق البتہ زمین کھڑی ہے ایک بیل کے سینگ کے اوپر۔عرض کیا گیا وہ بیل کہاں پر کھڑا ہے؟ فرمایا رسول اللہ نے سوہنے کملی والے نے تحقیق البتہ زمین کھڑی ہے اک بیل کے سینگ کے اوپر۔عرض کیا گیا کس نے عرض کیا ؟ عبداللہ بن سلام نے عرض کیا۔بہت دلچسپ قصہ ہے یہ۔میرے بھائیو! ذرا توجہ کے ساتھ سنو اس بات کو۔یہ موقع پھر نہیں آئے گا۔آپ کو عرض کیا گیا کہ اس بیل کی صفت کیا ہے؟ فرمایا رسول اللہ اللہ نے تحقیق البتہ ( تحقیق البتہ نہیں چھوڑا ) بیل کھڑا ہے وادی غزبان کے اوپر۔سبحان اللہ عبداللہ بن سلام نے عرض کیا۔وادی غزبان کی صفت کیا ہے؟ فرمایا رسول اللہ نے ، میرے سوہنے نبی نے ، وادی غزبان جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے۔جس کے دس ہزار شہر ہیں۔کتنے شہر ہیں؟