اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 419
419 سے رنگین فرمایا تھا۔ان کا کلام بھی جامعیت کا شاہکار ہوتا تھا اور ان کی باتوں میں بھی فصاحت و بلاغت کا رنگ رہتا تھا۔بہت کم بولتے تھے۔کسی وقت ان دنوں حضور کی خدمت میں جو کچھ کہا وہ ایسے موقع پر کہا جبکہ کم از کم میں اس میں موجود نہیں تھا۔کیونکہ ان کی رہائش حضور کی رہائش کے بالکل قریب تھی اور خاکسار نچلی منزل میں تھا۔جبکہ کتا بیں بھی تھیں میرے ساتھ ، تو حضرت شیخ صاحب کسی کسی وقت تشریف لاتے اور جب سونے کا وقت قریب آتا تو فرماتے۔”مولا نا! اب میں ”سونا“ بنانا چاہتا ہوں۔یہ کہہ کہ پھر چلے جاتے۔میرے ساتھ ایک دفعہ حضرت خلیفقہ اسے الثالث کی خدمت میں صرف ایک بات عرض کرنے کا مجھے یاد ہے اس وقت ، اور وہ بات تھی اس موقع کی جس کا میں نے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے بیان میں ذکر کیا ہے کہ راتوں رات اخبار منگوایا گیا۔یہ در اصل اخبار تھا ایک تو بدر۔ایک الفضل‘ اور یہ حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کے اس شعر سے متعلق 66 سوال تھا کہ " محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں تو راتوں رات بدر بھی آگیا پھر حضرت قاضی اکمل صاحب نے جو بیان وضاحت کے لئے الفضل میں دیا تھا وہ بھی آگیا۔اس میں موجود تھا کہ اس سے مراد تو وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة : 4) کی تفسیر ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں ہے اور وہ مقام بڑا ہے۔وَلَلآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى (الضحی : 5 ) کے مطابق میں نے شعری زبان میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔(ملاحظہ ہو الفضل قادیان 13 اگست 1944 صفحه 1) اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کے پاس عموماً " تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا رسالہ جو کہ حضور نے سپرد قلم فرمایا تھا نظر یہودی ونبوت ساتھ ہوتا تھا۔جب یہ مسئلہ پیش ہوا اور یہ بہت اہم مسئلہ تھا کیونکہ اشتعال انگیزی کے لئے بطور بم کے استعمال کرنا مقصود تھا۔