اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 409
409 مثلاً یہی ”كلهم اولاد البغايا ما خلا شيعتنا“۔حضرت امام جعفر صادق کی یہ کتا بیں ہمارے پاس تھیں ہی نہیں۔لائبریری میں بھی موجود نہیں تھیں۔سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ شیعہ لٹریچر ہمارے حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کے پاس موجود تھا۔وہ فوت ہو چکے ہیں لیکن ان کی لائبریری اگر دیکھی جائے تو ممکن ہے، یہ چیز مل جائے۔اب صرف رات ہی کا وقفہ تھا ہمارے پاس۔اسمبلی کا اجلاس ختم ہوا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے چوہدری رحمت علی صاحب آف سر وعہ حال دار البرکات ربوہ کو۔وہ ان دنوں راولپنڈی میں تھے۔انہوں نے اپنی کار پر مجھے لے جانے کی حامی بھری اور راتوں رات ہم مردان پہنچے۔اب یہ اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ گھر میں ان کے صاحبزادے یا ان کے عزیز موجود تھے اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے اجازت دی کتب خانہ کو دیکھنے کی۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ساری کتابیں اس میں موجود تھیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے راتوں رات یہ کام ہو گیا۔اس کے علاوہ بھی یہ صورت بنی کہ فوری طور پر بعض کتابیں راولپنڈی جماعت کے بعض مخلص احباب سے ہمیں ملتی رہیں مثلاً پیر صلاح الدین صاحب کی طرف سے اور سید ضیاء الحسن صاحب کی طرف سے عربی لٹریچر عطا ہوا۔لسان العرب یا غالبا مفردات امام راغب تھی۔یہ اس وقت ضرورت پڑی جس وقت ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا کے لغوی معنوں کا سوال پیدا ہوا تھا۔تو یہ کتابیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے راولپنڈی کے بزرگوں سے عطا فرمائیں۔یہ اللہ ہی کا فضل ہے کہ کتابیں پہلے سے موجود تھیں۔پیر صلاح الدین صاحب مرحوم انگریزی میں قرآن کریم کا ترجمہ کر رہے تھے اور اس کے علاوہ پھر اس کی تفسیر بھی انہوں نے شائع کی۔اس لحاظ سے ایک بہت بڑا اور بیش بہا ذخیرہ ان کے پاس تفسیروں کا بھی تھا اور عربی لغات کا بھی موجود تھا۔اللہ تعالیٰ جزائے عظیم بخشے اس موقعہ پر انہوں نے یہ سارا خزانہ ہمیں عطا فر مایا جو بعد میں ان کی خدمت میں واپس پیش کر دیا گیا۔یہ سلسلہ در اصل آج تک خلیفہ وقت کی توجہ سے چل رہا ہے۔آپ حیران ہوں گے۔یہ جو میں نے آپ کے سامنے پڑھا ہے۔إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِين اور پھر فَدَمُدَمَ عَلَيْهِمْ۔اب یہ کل سوال آپ کی طرف سے پیش ہوا ہے۔آپ حیران ہوں گے کہ اس سلسلہ میں کل ہی ہمارے شعبہ تاریخ کے کمپیوٹر سیکشن کے جو انچارج ہیں مولانا حافظ انوار رسول صاحب، وہ آئے ، کہنے لگے کہ یہ چند