اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 391 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 391

391 لگے یہ تو واضح ہے کہ یہ آپ کی جماعت کے بانی کی طرف اشارہ ہے۔میں نے کہا کہ اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں ادب کے ساتھ کہ بانی جماعت احمدیہ 1835ء میں پیدا ہوئے تھے۔1908ء میں آپ نے انتقال کیا۔1908ء کے انتالیس سال بعد پاکستان کا قیام ہوا اور قیام پاکستان 14 اگست 1947 ء کے ستائیس سال کے بعد اسمبلی نے یہ قرار داد پاس کی تو بانی جماعت احمدیہ کی وفات کے کتنے سال بعد یہ قرار داد ہوئی ؟ چھیاسٹھ سال بنتے ہیں۔انتالیس سال وہ اور ستائیس سال یہ، چھیاسٹھ سال بنتے ہیں۔میں نے کہا کہ اب مجھے آپ فرمائیں کہ وہ قانون جو سات ستمبر 1974ء کو پاس کیا گیا، وہ ایسی شخصیت پر کیسے لاگو ہو سکتا ہے جو اس قانون سے چھیاسٹھ سال پہلے انتقال کر چکی ہے۔کہنے لگے نہیں ہوسکتا ہے۔میں نے کہا پھر ہم پر بھی نہیں ہوسکتا۔حضور کا خطبہ جمعہ میں فیصلہ پر تبصرہ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔اس کے علاوہ سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں جو اس فیصلہ کے فوراً بعد آیا تھا اس فیصلے پر کیا تبصرہ فرمایا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ یعنی 13 ستمبر 1974ء کے خطبہ میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے بہت سے دوستوں کی طرف سے یہ درخواست پہنچی ہے کہ اس فیصلہ پر تبصرہ کیا جائے۔فرمایا کہ میں فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔No Comments۔اس فیصلے سے فکر اس کو دامنگیر ہو سکتی ہے جس نے اپنا ایمان لنڈے بازار سے خریدا ہے۔جنہیں رب کریم نے یہ نعمت بخشی ہے، انہیں اس پر کوئی تشویش نہیں ہوسکتی۔‘“ تفصیلی خطبہ کے لئے ملاحظہ ہو الفضل“ 14 اکتوبر 1974ء ”خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ 631 تا 641 ناشر نظارت اشاعت۔ربوہ )