اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 389 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 389

389 باب کی عظمت اور شوکت یہ ہے کہ اگر ہزاروں مصطفیٰ بھی ہوں تو اس کے مقابل پر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔(نعوذ باللہ ) اصل شعر اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔دو ہزار احمد مجتبی زبروق آں شہر اصطفاء شده مختفی شد در خفا متدثراً متز ملاً یعنی شاہ اصطفاء باب کی چمک دمک سے دو ہزار احمد مجتبی بالا پوش اوڑھے جھرمٹ مارے ہوئے پوشیدہ ہو گئے۔قرة العین وہ گستاخ رسول ہے جس کے متعلق ”جاوید نامہ میں سرا قبال نے یہ لکھا ہے کہ مجھے جنت کی ارواح میں کوئی اور خاتون نظر نہیں آئی۔مردوں میں سے مولانا روم نظر آئے اور جنت کی خواتین میں نہ حضرت فاطمہ کا ذکر کیا انہوں نے نہ حضرت خدیجہ کا ذکر کیا ہے نہ حضرت سودہ کا ذکر کیا ہے اور ذکر کیا ہے؟ قرۃ العین طاہرہ کا۔یہ عقیدہ ہے اقبال کا۔تو اس اقبال کے پرستار ملک جعفر خان کے الفاظ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ظلم و ستم کی انتہا ہے کہ فیصلہ کرنے والی وہ حکومت تھی جو اسلام کی علمبر دار تھی۔فیصلہ کروانے والے وہ مولوی تھے جو تحفظ ختم نبوت کا نعرہ لگا رہے تھے۔اور عوام وہ تھے جن کے متعلق مشہور کیا جاتا تھا کہ ہم ان کی خاطر فیصلہ کر رہے ہیں۔اور فیصلہ یہ ہوا کہ بابیت کے علمبر دار رسول اللہ کو آخری نبی مانتے ہیں اور یا پرویزی خیال کے لوگ مانتے تھے۔یہ اصل حقائق تھے۔چٹا کانگ کا واقعہ حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔مولانا اس حوالہ سے چٹا کا نگ کا ایک واقعہ آپ نے سنایا تھا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔میں چٹا کا نگ کے متعلق عرض کرتا ہوں جس کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا۔بات یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے عہد مبارک کے آخری ایام میں غالبا یہ 1980ء کی بات ہے، ایک ڈیپوٹیشن (Deputation) بنگلہ دیش کے لئے بھجوایا اور وہ ہمارے پیارے اور مشہور عالم احمدی ایڈووکیٹ جناب مجیب الرحمن صاحب کی سرکردگی میں تھا۔وہ ہمارے وفد کے قائد تھے اور مولانا سلطان محمود صاحب انور جو اس وقت ناظر اصلاح وارشاد کے منصب پر تھے