اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 369 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 369

369 اور پھر وہاں سے کراچی گئے۔اب آپ خود غور فرمائیں کہ ابھی سانحہ ربوہ نہیں ہوا۔چنیوٹی صاحب کہتے ہیں کہ چند دن پہلے کی بات ہے کہ یہ صاحب ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق سعودی عرب سے کراچی یہاں پہنچے ہیں۔منظور چنیوٹی صاحب لکھتے ہیں۔" حضرت شیخ قدس سرہ کے ساتھ طویل تخلیہ کے بعد۔۔۔دروازہ سے نکلتے ہوئے ہم خدام کی طرف دیکھ کر بہت زوروں میں فرمایا۔بس لا کھ دولاکھ مروا دینے ہیں مگر اس دفعہ انشاء اللہ مسئلہ حل کروالینا ہے۔“ 66 ( ” حضرت شیخ الحدیث کی دینی فکر ، صفحہ 33 ناشر ادارہ مرکز یہ دعوت ارشاد چنیوٹ ) اور اس کے تیسرے دن انہوں نے یہ قصہ سانحہ ربوہ کے نام سے شروع کر دیا۔بہر حال بنوری صاحب نے جو فرمایا ، میں ان کے ہی الفاظ بیان کرتا ہوں :۔وو میں نے کہا بھٹو صاحب خدا کی قسم اگر تم کافروں کے پریشر سے ڈرتے ہو تو اسلام کی عظمت محسوس نہیں کرتے ہو۔اگر خدا پر آپ کا ایمان اور یقین ہے۔اگر اللہ کے راضی کرنے کے لئے تم مسلمانوں کے اس مطالبے کو مانو تو خدا کی قسم کوئی طاقت تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔اس وقت وہ اکیلا تھا۔صرف میں ہی اس کے پاس تھا۔علیحدہ ملاقات تھی۔وہ کہنے لگا کہ مسئلہ پرانا ہے۔اتنی جلد کیسے حل ہوگا۔میں نے کہا کیسے حل نہیں ہوگا۔ایمان کا مسئلہ ہے۔آپ وقت کے وزیر اعظم ہیں۔اکثریتی پارٹی کے لیڈر ہیں۔منصب آپ کے پاس ہے۔ایک حکم پارٹی کو دو۔چلو اسمبلی پوری نہیں ہوتی ، آپ تو اکثریتی پارٹی کے لیڈر ہیں۔اگر تم نے مان لیا تو اپنی پارٹی کو آزاد مت چھوڑو حکم دے دو کہ یہ کام کرو۔( یہ خباثت باطنی کا جواظہار ہے وہ آپ ان الفاظ کو دیکھیں کہ حکم دے دو اپنی پارٹی کو کہ یہ کام کرو۔) کام آج ہو جائے گا۔ایک گھنٹے میں ہوسکتا ہے۔یہ تو وہ شخص کہہ سکتا ہے جوا کثریتی پارٹی کا لیڈر نہ ہو۔تم وزیر اعظم بھی ہو اوراکثریتی پارٹی کے لیڈر بھی ہو۔سب دارو مدار تمہاری نیت پر ہے۔پھر پندرہ منٹ میں یہ