اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 370
370 کام ہوا۔(فرماتے ہیں پھر پندرہ منٹ میں یہ کام ہوا۔) یعنی قومی اسمبلی نے پندرہ منٹ میں کام کر لیا۔سینٹ نے پندرہ منٹ میں کام کر لیا۔اور آخر کار بھٹو صاحب نہیں مانتے تھے۔نہیں مانتے تھے۔مجبور ہوکر پندرہ منٹ میں اس نے بھی کام کر دیا۔خیال میں آیا کہ ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا کہ 6 ستمبر کو یہ تمام مراحل ایسی برق رفتاری سے طے ہو گئے کہ عقل حیران ہوگئی کہ کیا ہورہا ہے۔“ ہفت روزہ ختم نبوت جلد 11 شماره 21 مورخہ 23 تا 29 اکتوبر 1992 ، صفحہ 25) یہ بیان تھا مولا نا یوسف بنوری صاحب کا۔اراکین پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی کا جور د عمل تھا۔وہ بھی دیکھنے والا ہے۔ایک طرف سے دیوبندی کہہ رہے تھے ہم اگر پریشر نہ ڈالتے تو بھٹو صاحب تو ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔اور دوسری طرف پیپلز پارٹی نے اگلے آنے والے انتخاب کے متعلق کہا کہ اب تو کامیابی ہماری قطعی اور یقینی ہے۔مولانا کوثر نیازی سابق وفاقی وزیر یہی وجہ ہے کہ کوثر نیازی صاحب نے لکھا ہے کہ جب یہ فیصلہ ہو گیا اور پہلے دن ایک دو بیان مولویوں کے آگئے کہ مولویوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔اگلے دن پھر ساروں نے کہا کہ یہ تو ہماری وجہ سے اور شاہ فیصل کی وجہ سے ہوا ہے۔اور اگر ہم اس وقت قربانیاں نہ دیتے تو بھٹو صاحب تو انکار کر بیٹھے تھے۔( تفصیل ملاحظہ ہو۔” اور لائن کٹ گئی صفحہ 15 ناشر جنگ پبلشرز ) سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے کی وجہ؟ ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جناب حنیف رامے صاحب نے علماء اور قائد طلباء کو اپنا عہد یاد دلاتے علماء نے بیانات دیے اور قائد طلباء نے اعلان کیا کہ اگر بھٹو نے قادیانی مسئلہ کا فیصلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل کر دیا تو پھر جو ہاتھ بھٹو کے اقتدار کی طرف بڑھے گا اسے ہم کاٹ دیں گے لیکن ان کی بات