اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 22
22 22 اب بھی آپ دیکھ لیں بریلویوں کی کتابیں تو سعودی عرب نہیں جاسکتیں۔ابن عربی کی کتاب شجرہ ممنوعہ ہے۔کیونکہ اہلسنت والجماعت نقشبندی اور اسی طرح قادری اور چشتی اور سہروردی۔یہ تصوف کی جان ہے۔آپ اگر پڑھیں یہ سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی کتابوں کو ، وہ تو فدا ہیں کہ تصوف کے میدان میں ابن عربی سے بڑھ کر کوئی انسان ہمیں نظر نہیں آتا۔تو اہلسنت والجماعت کی اکثریت ہے۔سعودی عرب میں تو حنبلی حکومت ہے۔اور واحد حنبلی حکومت ہے۔باقی دنیا میں اکثر حنفی حکومتیں ہیں۔ترکی جو عالم اسلام کی قیادت کرتا رہا ہے اس کا قانون حفی قانون تھا، امام ابوحنیفہ کا۔سپین میں مالکی فقہ تھی۔افریقہ کے بعض علاقوں میں اب بھی مالکی فقہ کی حکمرانی ہے۔تو یہ ایک چھوٹی سی مملکت ہے اور سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس مملکت میں مکہ کے چوٹی کے ایک عالم محمد بن جمیل نے ایک کتاب شائع کی اور کھلے لفظوں میں یہ بات واضح کی۔اس کا نام تھا منهاج الفرقة الناجية والطائفة المنصورة“ یہ مکہ مکرمہ کے چوٹی کے کالج دار الحدیث کے مدرس تھے۔اس میں "علامة الفرقة الناجية“ کے تحت صفحہ 12 پر لکھا ہے کہ یادرکھو صحیح مسلمان فرقہ ، اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس کو گالیاں دی جاتی ہیں، اس کو تکلیف دی جاتی ہے، اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور وہ اقلیت میں ہے اور ہمیشہ خدا کی جماعتیں اقلیت میں ہی ہوتی ہیں۔تو مکہ کی زمین سے یہ آواز بلند ہوئی ہے کہ کثرتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔خدا نے حنین کے موقع پر بھی یہ بات واضح کی اور یہ آواز مکہ سے دنیا میں بلند ہوئی۔خود وہابی فرقہ کی حضرت محمد بن عبد الوہاب کی طرف نسبت ہے۔بعض لوگ اہلحدیثوں کو بھی وہابی کہتے ہیں۔وہ غلط ہے۔انہیں پتا نہیں ہے اہلحدیث تو کسی امام کو سند قرار ہی نہیں دیتے۔وہ غیر مقلد ہیں۔حنفی تو امام ابو حنیفہ کو مانتے ہیں۔مالکی حضرت امام مالک کے مسلک کو پیش نظر رکھتے ہیں۔اور شافعی حضرت امام شافعی کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔لیکن اہلحدیثوں کا مسلک یہ ہے کہ آئمہ جو ہیں وہ سند نہیں۔قرآن اور سنت سند ہیں۔اور سنت سے مراد وہ حدیث اور رسول کی متواتر روش جو ہے وہ مراد لیتے ہیں۔تو یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے جس کی حکومت ہے۔تو اس حکومت کے اندر کوئی قرار دادا اگر پیش ہو گئی ہے یا پاس ہو گئی ہے تو اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ اجماع ہے۔لیکن لہ پراپیگنڈہ کرنا مقصود تھا۔اس کو پاکستان میں خاص طور پر کہا گیا کہ رابطہ عالم اسلامی کے ذریعہ