اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 345
345 کے بہت بڑے عالم ہیں۔دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔وہ احمدیوں کے نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کے سربراہ رہے ہیں۔وہ مسیح موعود کے ” موعود پوتا ہیں۔ان کے خلیفہ سوئم کے تقرر سے اس پیشگوئی کی تکمیل ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ مسیح موعود کے تخت کا وارث اس کا پوتا ہوگا۔“ یہ طالمود کی پیشگوئی تھی۔طالمود جوزف بار کلے باب پنجم صفحہ 37ایڈیشن جولندن سے 1878ء میں چھپا ہے۔) ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اور یہ بیٹی بختیار صاحب نے وہاں پڑھ کے سنائی تھی ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ یکی بختیار صاحب نخصوصی کمیٹی کے تمام ممبروں کے سامنے اس حقیقت کا اظہار کیا۔اور ان کی اپنی بلند شخصیت کا بھی اس سے اعلان عام ہوتا ہے۔(یہ انہوں نے انگریزی میں بیان دیا تھا۔یہاں بھی مولوی اللہ وسایا نے اپنی کتاب تحریک ختم نبوت 1974ء میں تحریف کی اور اٹارنی جنرل صاحب کے بیان کہ وہ ” حافظ قرآن ہیں کو کاٹ دیا ہے تا کہ دنیا یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ کیسا غیر مسلم ہے جو حافظ قرآن بھی ہے۔) بعض علماء کے تاثرات ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔اس قرار داد کے بارہ میں جو بعد میں پیش بھی کی گئی غیر احمدی اکابر کی کیا رائے تھی۔خاص طور پر ہم اس میں مولانا مفتی محمود صاحب کا ذکر کرنا چاہیں گے۔وہ تو وہاں موجود تھے۔اور انہوں نے پھر اس ضمن میں کچھ بیان بھی دیئے۔اس کے علاوہ مولانا مودودی صاحب گو وہاں موجود تو نہیں تھے لیکن ان کو سب اطلاع تھی۔حفیظ جالندھری صاحب اور ملک غلام جیلانی صاحب وغیرہ تھے۔ان کی اس بارے میں کیا رائے تھی ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ نہایت دلچسپ اور بہت سی معلومات پر مبنی ایک نہایت ہی نا قابل فراموش سوال تھا جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت آپ نے پیش فرمایا ہے۔میں تفصیل میں تو نہیں جاتا کیونکہ یہ دلچسپ باب ہے اور بڑی تفصیل چاہتا ہے مگر میں آپ کو ایک جھلک دکھانا چاہتا ہوں۔اور وہ بھی صرف غیر احمدی اکا بر مولانا مودودی صاحب، جناب حفیظ