اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 344
344 قاضی احسان شجاع آبادی صاحب بھی آیا کرتے تھے۔سٹیج پر وہ گالیاں دیتے اور کپڑے لینے کے لئے ان کی دکان پر پہنچتے تھے۔مولانا محمد شفیع صاحب اشرف مرحوم ان دنوں مربی ملتان تھے۔انہوں نے حضور سے جس وقت ذکر کیا میں اس وقت سیدنا حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی خدمت میں موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ حضور ! قاضی شجاع آبادی صاحب نے سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ کوئی وقت مجھے ملاقات کے لئے عطا فرمائیں۔حضور بہت مسکرائے کہ ان کے لئے وقت ہی وقت ہے جب مرضی تشریف لے آئیں۔بہر حال یہ ان کا اندرونی معاملہ تھا۔حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کے بارہ میں اٹارنی جنرل کا اسمبلی میں بیان ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب: بیٹی بختیار صاحب نے قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت کے بارہ میں کیا ذکر کیا تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب : قطعی بات ہے۔اس بیان کے آخر میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ حضرت مرزا صاحب بہت ہی مؤثر شخصیت کے مالک ہیں۔انہوں نے یہ بیان 6 ستمبر کو خصوصی کمیٹی کے ممبران کے سامنے تقریر کے دوران دیا تھا۔جزاکم اللہ۔آپ نے یاد دہانی کرادی۔انہوں نے فرمایا:۔” جب بشیر الدین محمود احمد کا انتقال ہوا تو اس کے بعد مرزا ناصر احمد نے بطور خلیفہ عہدہ سنبھال لیا۔وہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔میں نے ان کی اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک سوال کیا۔جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔اس کے علاوہ مجھے جو کچھ قادیانی لٹریچر سے مل سکا ہے وہ بھی میں پورے احترام کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیر الدین محمود احمد کی جگہ بطور خلیفہ سوئم جماعت احمدیہ 1965 میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی (ربوہ) گروہ کے سربراہ ہیں۔وہ 1909ء میں پیدا ہوئے۔وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔مؤثر شخصیت کے مالک ہیں۔وہ حافظ قرآن ، ایم۔اے ( آکسفورڈ ) عربی ، فارسی اور اردو