اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 343
343 چیمبر کے پاس سے گزر رہے تھے اور ہم لوگ پیچھے تھے تو یہ وہاں پر پہلے سے موجود تھے۔انہیں اندازہ ہوا کہ حضور تشریف لا رہے ہیں تو وہ باہر آ گئے اور جب تک کہ ہم لوگ الیکٹرک سٹیئر ز ( Electric Stairs) تک چلے نہیں گئے ، وہ حضور کے احترام میں کھڑے رہے۔باقی میں نے کہا ہے وہ مجبوری کی بات الگ ہے۔مجھے ایک بات یاد آ گئی۔شاہ جی کی بات یعنی امیر شریعت احرار صاحب کی۔یہ واقعہ الفضل میں شائع شدہ موجود ہے کہ منصوری پہاڑ پر ایک جلسہ تھا۔اس جلسے سے پہلے ایک شب جماعت احمدیہ منصوری کے بعض احباب ( غالباً حافظ عبد الحمید تھے اور انہی کا بیان تھا جو جہاں تک مجھے یاد ہے، الفضل میں شائع ہوا۔ان سے ملاقات کے لئے پہنچے جہاں ان کی قیام گاہ تھی۔بہت ادب کے ساتھ انہوں نے شاہ جی کو سلام کہا۔کیونکہ رسول پاک ﷺ کا یہی ارشاد ہے إِذَا جَاءَ كُمُ كَرِيمُ قَوْمٍ فَاكْرِمُوهُ ـ باقی معاملے تو یہ قیامت کے دن ہی حساب کتاب ہوگا۔یہ تو ہلاکو خان تھا جس نے کہا کہ یوم حساب میں لے کے آیا ہوں۔اور یہ ہلاکو خان کے ایجنٹ ہیں جو کہ یہ حساب کتاب اپنی تلواروں اور تفنگوں اور بموں کے ذریعہ سے یہاں ختم کرنا چاہتے ہیں۔وہ پکے دہریئے ہیں کیونکہ قرآن نے کہہ دیا ہے کہ یوم الدین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔شاہ صاحب نے حضرت حافظ عبدالحمید صاحب کو دو یکم (Welcome) کرتے ہوئے کہا کہ جماعت احمد یہ بہت اچھا کام کر رہی ہے اور حقیقت میں اسلام جس قسم کی سپرٹ (Spirit) دینِ اسلام کی تبلیغ کی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے پیکر جماعت احمدیہ ہی کے نوجوان ہیں۔تو حافظ صاحب نے کہا کہ حضرت یہ آپ کا ارشاد ہے۔اور بہت ہی پیارا ارشاد ہے اور حقیقت پر مبنی ہے۔آپ کے تجربے کے مطابق ہے۔تو آپ جلسے کے سٹیج پر بھی اس کو بیان کر دیں تو بڑی ذرہ نوازی ہوگی تو شاہ جی مسکرانے لگے۔بہت ہی پر لطف انداز میں کہنے لگے۔حافظ صاحب بات یہ ہے کہ بخاری سٹیج پر تو آن ڈیوٹی ہوتا ہے۔وہاں کی بات بالکل اور ہے۔اور خلوت کی باتیں بالکل جدا ر نگ رکھتی ہیں۔تو یہی صورت حال تھی اس وقت اٹارنی جنرل صاحب کی !! میں نے ذکر کیا تھا حضرت چوہدری عبدالرحمن صاحب امیر جماعت احمد یہ ملتان کا۔(جو چوہدری عبدالحفیظ صاحب ایڈووکیٹ کے والد تھے۔ان کی دکان ملتان کلاتھ ہاؤس تھی۔تو وہاں