اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 336
336۔۔۔۔۔عرب ممالک حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔روزنامه امروز لاہور 19 ستمبر 1974ء) تو بہر حال اشارۃ بات کہی۔مگر یہ کہا کہ ہم نے مسلم برادری کے دباؤ کے نتیجہ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو وہ ایڈووکیٹ کہنے لگے کہ کم از کم اتنا کریں کہ جو کارروائی ہوئی ہے وہ شائع ہی کر دیں۔اس کی اشاعت کر دی جائے ، عوام کا مطالبہ ہے یہ۔تو جناب میاں فاروق علی صاحب فرمانے لگے کہ اگر آج ہم شائع کر دیں تو آدھا پاکستان احمدی ہو جائے گا۔اس کا حوالہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے بھی دیا تھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ہلٹن ہوٹل لاہور میں حضور کے اعزاز میں جو استقبالیہ دیا گیا تھا ، اس میں حضور نے فرمایا تھا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب : استقبالیہ تھا۔اس میں فرمایا کہ یہ جواب ہے لیکن اب وہ کنسیشن(Concession) دینے کا زمانہ بیت گیا ہے۔اب ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نے پاکستان کی ہر روح کو صداقت سے منور کرنا ہے۔اب یہ آدھے حصے کی بات نہیں پورے پاکستان کا معاملہ ہے اور وہ معاملہ بھی دعاؤں سے اور دلائل سے طے ہونے والا ہے۔یہ بات ہوئی تو اس پر صاحبزادہ فاروق علی صاحب نے کہا کہ اگر فیصلہ شائع کر دیا جائے تو آدھا پاکستان احمدی ہو جائے گا۔تو وہ ایڈووکیٹ کہنے لگے کہ خدا کے لئے پھر شائع نہ کریں اور آخر میں صاحبزادہ صاحب نے یہ بات کہی کہ ہم نے لاہوری پارٹی کا بھی محضر نامہ اور ان کے دلائل سنے ہیں۔ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔لاہوری پارٹی ہمیں ورغلانے کے لئے اپنے عقائد کے اوپر پردہ ڈال کر اور چھپ کر آ رہی تھی اور قادیان کی جماعت نے برملا اپنے عقیدوں کا اظہار کیا۔ہم تو اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ لاہوری پارٹی کا اختلاف قادیانیوں کے ساتھ صرف بجٹ کے معاملے میں تھا۔مولانامحمد علی صاحب اور دوسرے اکابرین انجمن کے چاہتے تھے کہ انجمن کا سارا بجٹ ہمارے ماتحت ہونا چاہئے اور ہمیں اس معاملے میں جانشین قرار دیا جانا چاہئے۔ہم اس معاملے میں کسی اور کی بالا دستی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔آپ تک صاحبزادہ فاروق علی صاحب کی یہ بات کیسے پہنچی ؟