اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 337
337 مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔یہ بات ہمیں ایک ایسے احمدی ایڈووکیٹ کے ذریعہ سے پہنچی جو اس موقع پر موجود تھے۔محمد حسن صاحب ایڈووکیٹ کہروڑ پکا ضلع لیہ کے تھے اور وہ اس مجلس میں موجود تھے۔انہوں نے یہ ساری تفصیل ملتان کے مربی مولانا برکت اللہ صاحب محمود مرحوم کے سامنے پیش کی۔انہوں نے اسی وقت ان کی حلفیہ گواہی لی اور اس کے بعد اگلے دن وہ سید نا حضرت خلیفة أصبح الثالث کی خدمت میں پہنچے۔ایک کاپی حضور کی خدمت میں دی اور ایک کاپی مجھے بھیج دی۔اور وہ اصل کا پی جس میں یہ حلفیہ بیان درج ہے وہ اب تک ریکارڈ میں محفوظ ہے حافظ محمد نصر اللہ صاحب : محترم مولانا صاحب! ہم چاہیں گے کہ ناظرین کو اس تاریخی اور نایاب خط کا متن بھی احباب تک پہنچا دیا جائے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب۔جزاکم اللہ بسم الله الرحمن الرحيم - صل على محمد وال محمد سيد ولد آدم وخاتم النبيين۔آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں یہ عاجز جناب محمد حسن لودھی صاحب ایڈووکیٹ کہروڑ پکا کا حلفیہ بیان سامعین کے سامنے رکھ رہا ہے۔انہوں نے تحریر فرمایا:۔میں حلفا بیان کرتا ہوں کہ بارہ نومبر 1974ء کو جب وزیر اعظم صاحب بہاولپور ڈویژن کا دورہ کر کے ملتان سے واپس اسلام آباد گئے تو اس دن صاحبزادہ فاروق علی سپیکر قومی اسمبلی بھی انہیں See Off ( یعنی الوداع) کرنے کے لئے ملتان میں موجود تھے۔وزیر اعظم کے رخصت ہونے اور ان کے Fly کرنے کے بعد وہ ملتان بار میں تشریف لائے۔حالانکہ ان کا کوئی مقررہ پر وگرام یہاں آنے کا نہیں تھا۔جب وہ کچہری میں کار سے اترے تو میں بھی انہیں ملا اور ان کے ساتھ ہی بار روم میں چلا گیا۔بار روم میں ان کے دوست وکلاء ان سے ملے اور دوستانہ ماحول میں ان سے گپ شپ ہوتی رہی۔دوران گفتگو محمد اشرف خان صاحب صدر بار نے ان سے احمدیوں کے مسئلہ کے حل کے بعد کے نتائج اور قرار داد پر عمل درآمد کرانے کے بارے میں