اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 334 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 334

334 خلیفہ المسح الثالث پر بھی ایک رقت کی کیفیت طاری تھی۔اسی طرح ہم جو خدام تھے اس وقت ایک ایسا عالم طاری تھا کہ آج میں لفظوں میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔خاموشی بھی تھی۔زیر لب دعائیں بھی تھیں۔استغفار بھی تھا۔خدا کا شکر بھی ادا کر رہے تھے۔اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ آخری دن ہے۔اور نہ یہ پتہ تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب کا آخری سوال تھا جس کا جواب حضور نے ارشاد فرمایا ہے۔اس ماحول میں بیٹی بختیار صاحب اٹارنی جنرل نے حضور کو مخاطب ہو کر کہا کہ مرزا صاحب جو سوالات علماء یا گورنمنٹ نے مجھے دیئے تھے آپ تک پیش کرنے کے لئے ، وہ تو میں کر چکا ہوں۔اب میرے پاس کوئی سوال نہیں ہے۔اب میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ خصوصی کمیٹی کے ممبروں سے کچھ خطاب کرنا چاہیں۔ہمیں بڑی خوشی ہوگی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے یہ بات سن کر قرآن مجید جو حضور ہر اجلاس میں ساتھ رکھتے تھے ، اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمانے لگے کہ مجھے آپ ممبران کی خدمت میں تیرہ دن تک آنے کا موقع ملا ہے۔پہلے دو ایام میں میں نے محضر نامہ آپ کے سامنے پیش کیا۔باقی گیارہ ایام میں آپ حضرات کی طرف سے بہت سے سوالات کئے گئے۔ان تیرہ دنوں میں مجھ پر انتہائی سخت قسم کے سوالات کئے گئے۔جرح کی گئی۔میں قرآن کو ہاتھ میں رکھ کے اور خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ ان تیرہ دنوں میں اگر کوئی شخص میرے دل کو چیر کے دیکھ سکتا تو خدا کی قسم اس دل میں سوائے خدا اور محمد مصطفی ﷺ کی محبت کے اور کوئی چیز نہ پاتا۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔کاروائی اور فیصلہ پر عمائدین کے تاثرات کی جھلکیاں صاحبزادہ فاروق علی صاحب کا حقیقت پسندانہ بیان ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ کارروائی جو تیرہ دن جاری رہی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس میں اپنا محضر نامہ بھی پڑھا اور اس کے بعد سوالات کے جوابات بھی دیئے۔اس وقت اس سیشن میں جو چیئر مین تھے یعنی جو پیکر تھے قومی اسمبلی کے صاحبزادہ فاروق علی صاحب۔ان کے اس کا رروائی کے بارے میں کیا تا ثرات تھے؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: بسم الله الرحمن الرحيم صل على محمد و