اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 18 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 18

18 تو یہ حقیقتا تحریک ختم پاکستان تھی۔مگر ملا آج تک اس کو تحفظ ختم نبوت سمجھتا ہے۔حالانکہ اس وقت کی گورنمنٹ نے کہا کہ کچھ شرم کرو۔مسلمانوں کو لوٹنا قبل کرنا ، بینکوں کولوٹ لینا، ریلوے اسٹیشن سے پٹڑیوں کو اکھیڑ دینا، یہ ختم نبوت کا تحفظ ہے؟ گورنمنٹ پنجاب نے اشتہار شائع کئے۔اسی طرح علماء نے شائع کئے۔صحافیوں کی طرف سے، جھنگ سے لاہور سے اشتہار شائع ہوئے کہ ختم نبوت کے نام پر غنڈہ گردی اور دہشت گردی! شرم آنی چاہئے یہ بات کہتے ہوئے۔لیکن حیرت کی بات ہے۔ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ ہر وہ حرکت جو کہ اپنے مفاد کے لئے اور اپنے مقصد کے لئے کی جاتی ہے ملا اور ان کے ہمنواؤں کی طرف سے تحفظ ختم نبوت کے نام پر کی جاتی ہے۔1953ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے پوری اتمام احجت کی۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے خاص طور پر بیان دیا اور تحقیقاتی عدالت میں واضح کیا ، اس بات کو کہ ختم نبوت تو ہمارا جزوایمان ہے۔کوئی احمدی ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ختم نبوت جیسے بنیادی مسئلے کو حرز جان نہ بنالے۔وہ سینے سے سجانے والا ہے۔اس کے بغیر تو احمدیت کا تصور ہی نہیں ہوسکتا اور بڑے قد آدم پوسٹر شائع کئے گئے۔جماعت کی روایت ایسی نہیں ہے لیکن آپ حیران ہوں گے کہ قد آدم پوسٹر اتنے بڑے بڑے تھے کہ حیرت آتی تھی۔لاہور میں لگائے گئے۔کراچی میں لگائے گئے۔سیالکوٹ میں اس وقت مولاناسید احمد علی شاہ صاحب تھے ان کی طرف سے لگائے گئے اوراس کے بعد چھوٹے ہینڈبل ، مولانا عبدالغفور صاحب نے ٹریکٹ لکھے اس موقع پر، پھر حضرت مولانا عبدالقادر صاحب سوداگر مل مرحوم (اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ان سب پر انہوں نے التبلیغ “ کے نام سے جو رسالہ جاری کیا اس میں بڑی کثرت کے ساتھ سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس وقت یہ کھلے لفظوں میں بیان شائع کیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں چاروں صوبوں میں تقسیم کیا گیا اور اس کا عنوان ہی یہی تھا کہ جو ختم نبوت کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔یہ ہمارا ایمان ہے۔تو یہ چیزیں تھیں مگر اس کے باوجود چونکہ پراپیگنڈہ کا جو سسٹم ہے وہ احرار نے 1918ء سے لے کر 1947 ء تک براہ راست پٹیل سے، نہرو صاحب سے، گاندھی صاحب سے اور لالہ لاجپت رائے اور دوسرے حضرات سے سیکھا ہے اس واسطے وہ گوئبلز (Goebbels) کی اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں کہ جھوٹ کو اس کثرت سے اور اس شان کے ساتھ پھیلا دیا جائے کہ عوام جو