اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 310
310 بعد میں بعض مستند ذرائع سے یہ پتہ چلا کہ اپوزیشن کے ملاؤں نے چیئر مین صاحب سے شکایت کی اور شکوہ کیا ہے کہ اٹارنی جنرل ملت اسلامیہ کے موقف کی صحیح وکالت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ملت اسلامیہ کا تو میں پوسٹ مارٹم پہلے کر چکا ہوں۔لیکن میں یہاں یہ دلچسپ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کے نام سے کچھ عرصہ قبل دیو بندی مولویوں نے ایک دہشت گرد پارٹی بنائی تھی یعنی نام ہی ملت اسلامیہ" رکھا۔بلی تھیلے سے باہر نکل آئی تھی نا۔جسے موجودہ مشرف حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا۔بہر حال ملاؤں کی شکایت یہ تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب ملت اسلامیہ کے موقف کی وکالت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔یعنی ملا جو چاہتا تھا وہ اٹارنی جنرل صاحب نہیں کر سکے۔اس لئے ان کے نمائندہ ظفر انصاری صاحب کو مرزا ناصر احمد صاحب پر جرح کرنے کا موقع دیا جائے۔دراصل ملاؤں کو یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اٹارنی جنرل دینی علم و دانش رکھتے ہیں نہ مناظرانہ داؤ بیچ اور چالوں سے واقف ہیں۔اس لئے اگر وہی جرح کرتے رہے تو شکار ہاتھ سے نکل جائے گا جس سے سیاسی حلقوں میں ہی نہیں پبلک میں بھی ہماری رسوائی ہوگی۔مگر خدا کی قدرت دیکھئے خود ان کے نمائندہ کے ذریعہ ان کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہی اور ان کی ساری مذہبی بصیرت کا پردہ چاک ہو گیا۔جناب ظفر انصاری صاحب کے پاس خلاف احمدیت لٹریچر تھا۔( اور میرے سامنے ابھی بھی وہ نظارہ اسی طرح ہی ہے۔) جسے وہ ایک تھیلے میں رکھ کر کھڑے ہوئے۔بالکل آخری جو قطاریں تھیں، کرسیوں کی ،ان کے وسط میں کھڑے ہوئے اور اٹارنی جنرل صاحب کی طرح واضح سوال کرنے کی بجائے طول طویل تمہید کے بعد وہ من گھڑت کہانی دہرانی شروع کر دی جس کا پراپیگنڈہ آل انڈیا نیشنل کانگریس کی پروردہ اور خود کاشتہ احراری پارٹی اور اس کے سیاسی پیشوا مدتوں سے خدا کی قائم کردہ جماعت کے خلاف کرتے آرہے تھے۔اس ضمن میں انہوں نے غدر 1857ء کے بعد برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے کسی خلقی نبی کی تلاش کے مضحکہ خیز ڈرامے کا بھی ذکر کیا اور آغاز میں ہی کیا۔اس پر چیئر مین صاحب تلملا اٹھے اور انہیں سختی سے توجہ دلائی کہ مولانا یہ اسمبلی ہال ہے۔اختصار سے کام لیں جس پر انہیں جوش خطابت کے جو ہر دکھانے کی بجائے لینے کے دینے پڑ گئے۔اب آگے چلنے سے پہلے میں ایک بات جو مجھ پر واردات ہوئیں ، ان کا ذکر بھی کرنا دیچیپسی