اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 300
300 پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ کافروں کا مقابلہ کر سکیں۔پھر یہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی ایسا ملک ہو جو ان کو امن دینے والا ہو۔پھر شرط یہ ہے کہ دشمن حملہ آور ہو۔ان سارے علماء نے مسیح موعود کے فتوے سے چونسٹھ سال پہلے یہ فتویٰ شائع کیا کہ یہ چاروں شرطیں اس وقت ہندوستان میں نہیں ہیں اس واسطے آج اسلام کے مطابق جہاد کرنا نا جائز ہے اور جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔اب آخر میں اتنا میں عرض کروں گا کہ ملاں سمجھتے ہیں کہ دنیا سب اندھی ہے۔اور کوئی شخص تاریخ کو نہیں جانتا۔اس زمانے کے منظر کو پیش کرنے کے لئے کہ وہ کتابیں اب بھی موجود ہیں عالم اسلام کی کیا کیفیت تھی۔جہاد کے لفظ سے تو پہلے اس زمانے میں بھی مسلمانوں کی حکومت افغانستان کی طرف انسانوں کی توجہ ہو جاتی تھی۔اب میں افغانستان کے ضیاء الملت والدین امیر عبدالرحمن خاں غازی حکمران دولت خدا داد افغانستان اس دور کے ، حضرت مسیح موعود کے زمانے کے۔ان کی خود نوشت سوانح عمری آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس کا ترجمہ آگرہ سے سید محمد حسن بلگرامی کی طرف سے دبدبہ امیری“ کے نام سے شائع کیا گیا۔انگریزی ترجمہ لندن سے چھپا ہے۔وہ میں نے انڈیا آفس میں دیکھا ہے۔یہ اردو ترجمہ ہے اور حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں چھپا ہے اور چھپا بھی مطبع تنسی آگرہ سے ہے۔اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ عالم اسلام کی کیا کیفیت تھی جہاد کے معاملہ میں۔’امیر عبدالرحمن خاں غازی حکمران دولت خدا دادافغانستان اپنی آٹو بائیو گرافی میں لکھتے ہیں۔صورت حال کا اندازہ کرنے کے لئے پہلے تو دیگر مسائل لکھنے کے بعد روس کی پالیسی کا ذکر کیا ہے۔روس کی پالیسی جس کے احراری بھی ایجنٹ ہیں اور جواہر لعل نہرو صاحب اپنے دور میں کانگریس میں جو سوشلسٹ ونگ تھا اس کے سربراہ تھے اسی لئے میں نے اشارہ بتایا ہے کہ جس وقت 1928 میں فرانس میں نیشنل کمیونزم کی کانفرنس ہوئی تو بطور ڈیلیکیٹ (Delegate) کے، نہرو صاحب کو کانگریس کی طرف سے بھجوایا گیا تھا۔تو یہ روس کی پالیسی کا ذکر کر رہے ہیں۔کون؟ امیر عبدالرحمن والی افغانستان۔فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ روس کی پالیسی امیر بخارا اور دیگر میرانِ وسط ایشیا اور ٹر کی اور ایران اور افغانستان کی نسبت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ قومی نہ ہونے پائیں جو اس کی دائگی پیش قدمی میں مخل ہوں۔ایشیائی سلطنتوں کی دقتوں اور۔