اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 299 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 299

299 احباب خود اندازہ کریں۔یہ فتوے 1288 ہجری کے ہیں۔اور ایک فتوی 1255 ہجری کا ہے۔اب آپ اندازہ کریں کہ جماعت احمدیہ کا قیام ہوا ہے 1306ھ میں اور یہ 1255ھ کا فتویٰ ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔1255 ہجری مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔1255 ہجری۔اور یہ کتنے سال ہوئے پہلے۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔51 سال پہلے کا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:- 51 سال پہلے کا فتویٰ ہے یہ۔جماعت احمدیہ کے قیام سے بھی پہلے کا۔دیکھیں سب کی مہریں ہیں۔سید نذیر حسین ،سید ابوالحسن،سید عبدالسلام وغیرہ۔یہ جو تصور کیا جاتا ہے کہ تمام اہل اسلام جہاد پر متفق تھے اور مرزا صاحب نے آکر جہاد کو انگریز کے کہنے پر منسوخ کر دیا ہے۔ایسا قصہ، ایسا فسانہ، ایسا جھوٹ بنایا گیا ہے جس طرح ان کے پیر ومرشد کہتے ہیں نا کہ سفید جھوٹ بولو کہ یہ اندازہ ہی نہ ہو سکے کہ کوئی ملا منبر رسول پر کھڑا ہو اور اس طرح کی جھوٹی کہانی اسلام اور قرآن کے نام پر بنا سکتا ہے۔تو یہ فتوی کس وقت کا ہے؟ اکاون سال جماعت احمدیہ کے قیام سے پہلے کا اور مسیح موعود کا فتویٰ اس کے بعد 1902ء میں دیا گیا ہے۔تو 1889ء اور 1902ء میں یہ تیرہ سال اور ہو گئے۔تیرہ کو اگر اکاون میں جمع کریں تو یہ چونسٹھ سال بنتے ہیں۔تو یہ حضرت مسیح موعود کے فتویٰ سے چونسٹھ سال پہلے کا فتویٰ ہے اور اس کا خلاصہ یہ دیا گیا ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔جس سوال پر فتویٰ دیا گیا تھا وہ کیا تھا؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب:۔سوال یہ کیا ہے کہ کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کہ ہندوستان میں جہاد جائز ہے یا نہیں؟ تو اس کے جواب میں سارے علماء کی طرف سے متفقہ جواب دیا گیا جو کہ جماعت احمدیہ کے قیام سے اکاون سال پہلے کا اور حضرت مسیح موعود کے فتویٰ جہاد سے چونسٹھ سال پہلے کا ہے۔سر فہرست مولوی نذیر حسین صاحب کہتے ہیں کہ جہاد کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے۔اس کی چار شرطیں ہیں اور چاروں میں سے کوئی شرط بھی ایسی نہیں ہے جس سے کہ جہاد جائز قرار دیا جا سکے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس میں یہ بھی شرط ہے کہ مسلمانوں کا امام ہو۔مسلمانوں کے