اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 298
298 وجہ سے پھر زمین کے چار مربعے بھی عطا کئے گئے۔تو آپ نے فرمایا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا اعلان کیا ہے اور توثیق کی ہے کہ اس ارشاد کے مطابق جہاد کے مسئلہ کی جو مفتیان مکہ نے ، خلیفۃ المسلمین نے اور یہاں برصغیر ، ہندوستان کے جو بڑے بڑے علماء ہیں۔نے نظریہ جہاد کے متعلق جو یہ کہا ہے کہ موجودہ زمانے میں وہ شرائط نہیں ہیں قرآن کی رُو سے، میں اس کی توثیق کرتا ہوں۔کوئی نیا فتویٰ ہی نہیں تھا وہ۔وہ اعلان عام تھا محمد عربی ﷺ کے ارشاد پاک کا۔اس کے بعد پھر حضور نے ” اول المکفرین“ مولوی سید نذیر حسین صاحب شیخ الکل کی کتاب ” فتاویٰ نذیریہ کا ایک بہت طویل اقتباس پڑھا۔وہ کتاب چھپی ہوئی ہے۔میں اس کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ فتاویٰ نذیریہ کتاب الامارۃ والجہاد ہے اور ابواب میں آپ کے فتوے سارے جمع کئے گئے ہیں۔تیسری جلد ہے۔مکتبۃ المعارف الاسلامیہ گوجرانوالہ پاکستان اس کے ناشر ہیں۔ان کا بیان صفحہ 277 سے صفحہ 286 تک چلتا ہے۔بڑی تقطیع کی کتاب ہے۔اس کا ذکر چند حرفوں میں کیا ہے اللہ وسایا نے اپنی کتاب میں۔حالانکہ حضور نے بڑی تفصیل سے ساری باتیں بیان کیں۔اور اس کے علاوہ پھر یہ صفحات بھی پڑھے۔وہ دوسطروں میں کیسے آگئے؟ اس سے ان کی خباثت باطنی کا پتہ لگتا ہے۔اس کتاب ہی سے ثابت ہے کہ یہودی دو ہزار سال سے وہ تحریف نہیں کر رہے جو ان لوگوں نے چند دنوں میں کر کے دکھا دی ہے۔اب اس میں یہ بہت تفصیلی ہے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ سارا حضور نے وہاں پڑھ کے سنایا تھا ؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔ہاں لفظاً لفظاً پڑھ کے سنایا ہے۔اور اس کی رپورٹنگ اللہ وسایا نے چند سطروں میں کی ہے۔حالانکہ یہ صرف اسی کو نقل کر دیتے تو یہ کئی صفحوں تک جاتا تھا۔دو دن یہ بحث جاری رہی ہے۔اور سناٹا چھایا ہوا تھا اس وقت۔کسی کو دم مارنے کی گنجائش نہیں تھی۔تو سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں جہاد جائز ہے یا نہیں؟ اس سے پہلے یہ میں بتا دیتا ہوں کہ یہ فتویٰ ہے جو شائع کیا گیا اور اس کے آخر میں مولوی نذیر حسین صاحب، سید ابوالحسن صاحب، سید عبدالسلام صاحب، محمد یوسف صاحب اور دیگر علماء کے نام لکھے گئے ہیں۔اس دور کے سن اگر آپ معلوم کریں