اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 297 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 297

297 تمام دنیا کے ممالک میں جن میں انڈو نیشیا بھی شامل ہے، اسلام کے نام پر دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ اکٹھی ہو رہی ہے۔آج ایک شور قیامت برپا ہے۔خدا نے وہ زمانہ تو گذار دیا۔اب دنیا پر اور مسلمانوں پر یہ کھل گیا ہے کہ ملاں جس کو جہاد کہتا تھاوہ دراصل دہشت گردی ہے۔اب میں بتاتا ہوں آپ کا جو ارشاد ہے اس کی تعمیل میں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے حقیقی اسلامی نظریہ جہاد کی اس موقعہ پر اس شاندار رنگ میں ترجمانی فرمائی کہ دل و دماغ معطر ہو گئے اور اس وقت ہم سب اس نتیجہ پر پہنچے کہ حقیقت یہ ہے کہ تمکنت دین کا نشان خلفاء سے ہی وابستہ ہے اور خلفاء کی زبان عرش کے خدا کی زبان ہوتی ہے۔حضور نے پہلے تو یہ بیان کیا کہ حضرت بانی سلسلہ نے جو 1902ء میں فتویٰ دیا ہے۔دراصل یہ 20 اکتوبر 1900ء کا واقعہ ہے جب حضوڑ نے در گورنمنٹ انگریزی اور جہاد نامی رسالہ شائع کیا اور اس میں تاریخی عوامل سے بالبداہت ثابت کیا کہ اوائل اسلام کی سب جنگیں محض وقتی اور مدافعانہ تھیں اور اسلام سے بڑھ کر صلح اور امن کا علمبر دار کوئی مذہب نہیں۔اسی لئے اپنی دعوت کی بنیاد صلح ، آشتی اور محبت کے عالمگیر اصولوں پر رکھی ہے۔یہ جیسے آپ نے اشارہ کیا، اٹارنی جنرل صاحب نے اسمبلی میں ملاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کو بڑے نمک مرچ لگا کر پیش کیا اور نورانی صاحب نے بھی ایک دن پہلے اس موضوع پر اشتعال انگیز تقریر کی اور اگلے دن پھر یہ سوال جڑ دیا گیا۔حضور نے دودن 20 اور 21 راگست کو اس مسئلہ پر نہایت بلیغ اور فیصلہ کن روشنی ڈالی ہے۔حضور نے فرمایا کہ دراصل بانی جماعت احمدیہ نے جو مسلک اختیار کیا وہ تو آنحضور ﷺ کا مسلک تھا۔آپ کی پیشگوئی تھی کہ جب مسیح موعود آئے گا يَضَعُ الْحَرْبَ وہ مذہب کے نام پر جنگوں کو ملتوی کر دے گا۔یہ بخاری شریف میں موجود ہے۔بانی جماعت نے تو بحیثیت نائب مصطفیٰ کے اس کا اعلان کیا ہے کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد ﷺ کا جو آرڈینینس ہے وہ آج سے نافذ ہو گیا ہے۔آپ نے یہ کہا کہ اس میرے زمانے میں تیرھویں صدی کے مجد د حضرت سید احمد شہید سید احمد رضا بریلوی اور مفتیان مکہ اور سید نذیرحسین دہلوی اور نواب صدیق حسن خان اور مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی ان لوگوں نے جہاد کے موضوع پر بیان کیا کہ جہاد دفاعی جنگ کا نام ہے اور موجودہ زمانہ ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی شرائط اس پر لاگو ہوتی ہوں۔اس لئے اب جو جہاد کرتا ہے وہ فساد کرتا ہے۔دراصل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اس