اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 295
295 میرے مسیح ہونے پہ یہ اک دلیل ہے میرے لئے یہ شاہد رب جلیل ہے چودہ سو سال سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ الہی ایسا نہ ہو کہ وہ مسیح آئے اور چودہویں صدی کے یہودیوں کی طرح ہم اس کا انکار کریں۔کتنا بڑا انشان ہے اور یہ اسمبلی اور یہ محضر نامہ، ان کے نام نہاد ختم نبوت کے فتوے والے جنہوں نے کہ حضرت یوسف کے زمانے والے یہود کا پرچم لہرایا ہوا ہے، وہ سب گواہی دے رہے ہیں کہ خدا کی بات پوری ہو گئی۔دو اب میں ضمنا نہیں بلکہ حقیقتاً اشارہ ، میں اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تو صرف سورۃ فاتحہ کی بات ہے جس کا حضور نے نمونہ ہی پیش کرنا تھا چونکہ وقت کم تھا، ورنہ اگر آپ دیکھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کے جو خزانے تقسیم کئے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات اور حضور کی کتابوں میں موجود ہیں۔اس کو بھی ” ادارۃ المصنفین “ نے اور نظارت اشاعت“ نے شائع کر دیا ہے۔اس کا ایک واضح نمونہ دنیا نے جلسہ اعظم مذاہب میں دیکھا۔خدا کے مسیح کو بتایا گیا کہ اس جلسہ اعظم مذاہب میں جس میں ہندو بھی، چینی بھی سکھ بھی، آریہ سماج بھی ، کیتھولک بھی ، پروٹسٹنٹ بھی۔مسلمانوں میں سے بریلوی بھی ، دیو بندی بھی، اہلحدیث بھی شامل ہوئے۔خدا تمہارے مضمون کو غالب کرے گا اور بتائے گا کہ قرآن دنیا میں واحد زندہ کتاب ہے اور اسلام زندہ مذہب ہے۔چنانچہ آپ حضرات دیکھیں چودہویں صدی اخبار راولپنڈی سے چھپتا تھا۔یکم فروری 1897ء میں بہت تفصیلی ریویو ہے، پڑھنے والا۔" تاریخ احمدیت جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ 569-567 میں یہ دونوں ریویو چھپے ہوئے موجود ہیں۔چودہویں صدی کے مدیر نے لکھا کہ میرا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن خدا جانتا ہے کہ قرآن کے وہ معارف جومولا نا عبدالکریم صاحب کے ذریعہ مرزا صاحب نے بتائے ہیں، آج تک ہم نے نہیں سنے اور سننے والے غیر مسلموں کے اوپر بھی اسلام کا سکہ بیٹھ گیا۔کلکتہ کے اخبار نیر اعظم گوہر و آصفی۔“ اس نے بھی قریباً ڈیڑھ صفحہ یعنی تین کالم کا اداریہ لکھا اور کہا کہ یہ بہت بڑا عظیم معرکہ ہے جس میں تمام دنیا کے مندوبین جمع ہوئے اس پلیٹ فارم پر اور اس موقعہ پر اگر چہ اس میں بڑی کوشش کی گئی کہ فلاں بھی آئیں، فلاں بھی آئیں لیکن کسی نے آنے کی کوشش ہی نہیں۔چند جو آئے ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔آنے والوں میں مولوی