اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 294
294 و بھیجا تھا۔یہود نے ان کو کافر کہا۔ان کو گالیاں دیں۔ان کو قتل کرنے کے منصوبے کئے۔آپ نے فرمایا کہ اگر کسی مسیح موعود نے چودہویں صدی میں نہیں آنا تھا کیونکہ آنحضرت عے مثیل موسیٰ ہیں اور کسی نے ان کا انکار نہیں کرنا تھا، کسی نے ان کو کا فرنہیں قرار دینا تھا تو یہ دعا کیوں سکھائی گئی۔یہ دعا اعلان عام کر رہی ہے کہ یہ مقدر تھا کہ چودہویں صدی میں بھی خدا کی طرف سے مسیح آئے گا محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں اور جس طرح یہودی علماء نے انکار کیا اس دور کے ملاں بھی انکار کریں گے اور قتل کے منصوبے کریں گے۔چنانچہ آپ دیکھیں کہ مرتد اقلیت کے الفاظ احمدیت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں کہ واجب القتل ہیں۔اس سے کم تو ٹھہرا ہی نہیں جاتا۔وہ غالبا امیر مینائی کا ہی علی شعر حضرت حافظ مختار احمد شاہجہان پوری صاحب کی زبان سے میں نے سنا تھا۔کہتے ہیں کہ یہ زبان چلتی ہے اے واعظ کہ چھری چلتی ہے ذبح کرنے مجھے آئے یہ وہ سب جانیں ہر تقریر، ہر کتاب، ہر پمفلٹ ، خواہ وہ ننکانہ سے چھپے، حضوری باغ ملتان سے چھپے یا بنوری کی مسجد سے چھپے یا کسی اور جگہ سے چھپے، پورا نقشہ گالیوں کا آپ کو ہر ایک میں ملے گا اور بالکل یہ یہودیوں کی بات تھی۔یہود نے جو کچھ بھی کیا حضرت مسیح علیہ السلام سے، وہ یہ لوگ 1889 ء سے لے کر آج تک کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کے سارے منصوبے، ان کی ساری کتابیں یہ اعلان عام کر رہی ہیں کہ ہم وہی کر رہے ہیں جس طرح کفار کیا کرتے تھے۔یہ اعتراف تو کر رہے ہیں کہ ہم وہ کر رہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابو جہل کیا کرتا تھا۔اسی میں یہ شامل ہے کہ جو یہود نے دو ہزار سال پہلے مسیح علیہ السلام کے خلاف کیا تھا۔تو آپ نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ خدا کی طرف سے اتمام حجت اور معجزہ ہے میرے لئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اے دوستو جو پڑھتے ہو ام الکتاب کو اب دیکھو میری آنکھوں سے اس آفتاب کو یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعویٰ مہر الله ہے