اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 15
15 میں دیا تھا جس کا عنوان ”The Future of India“ تھا اور اس کا ذکر اخبارات میں مثلاً Statesman ” ہندوستان ٹائمنز اور سنڈے ٹائمنر (9۔اپریل 1933 ء) میں موجود ہے۔اس کے علاوہ انگلستان کے پریس میں صاف موجود ہے اور دنیا حیران رہ گئی کہ جماعت احمدیہ کی مسجد میں آکر قائد اعظم نے یہ اعلان کیا ہے۔اس کے بعد حضرت قائد اعظم ہندوستان تشریف لے آئے۔بعض کا ذکر حضور نے اپنے خطبے میں فرمایا اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ جب بعض اوقات دتی میں مسلم لیگ کے اپنے جلسہ کے لئے فنڈ بھی موجود نہیں تھے تو فنڈ قادیان سے جاتے تھے اور عملی طور پر سب سے زیادہ کام کرنے والی جماعت احمدیہ تھی۔اب میں آخر میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کانگریس کی مخالفت کے باوجود چونکہ اگلے سال 1935ء میں ایک ایکٹ نافذ ہونے والا تھا اور اس میں مسلمانوں کو مراعات ملنے والی تھیں، اس وقت کا نگریس نے یہ سوچا کہ اگر مسلمانوں کو حقوق بھی حاصل ہو جائیں تو ان کا ایسا آپریشن کیا جائے کہ جو فعال طبقہ ہے، جماعت احمدیہ، اس کو علیحدہ کر دیا جائے تو یہ مخالفت کی بنیاد تھی۔اس بنیاد کے بعد جب 1947 ء میں احرار کی مخالفتوں کے باوجود اور آل انڈیا کانگریس اور ان کے جو ساتھی تھے، ان کی کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ اور قائد اعظم کی کوششوں سے پاکستان حاصل ہوا۔جماعت احمد یہ بحیثیت جماعت کے واحد جماعت ہے جس نے قائد اعظم کے دوش بدوش کام کیا اور یہ کہ آزادی ہند میں اور جہاد پاکستان میں حصہ لیا ہے۔لیکن پہلے سے Underground فیصلے ہوئے اور تاج برطانیہ، ماؤنٹ بیٹن، پنڈت نہرو کا فیصلہ یہ تھا کہ فی الحال پاکستان بنانے دیا جائے مگر لنگڑا پاکستان ہو اور ایسی صورت ہو کہ چند سال کے اندر اندر خود پاکستان کے رہنے والوں کو جھکنا پڑے اور پھر درخواست کرنی پڑے کہ ہم ہندوستان میں شامل ہوتے ہیں۔خصوصی کمیٹی قومی اسمبلی کا پس منظر ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مذہبی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہو گیا۔اس کے بعد 1953ء کی تحریک چلائی گئی اور 1974ء میں پھر اس آگ کو بھڑکایا گیا۔اس