اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page iii of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page iii

ریاچه دنیائے مذہب کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سچے مامورین کو ہمیشہ دنیا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اور کوئی رسول ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کیا کرتے تھے (سورۃ الحجر آیت (12) یہ سلسلہ صرف استہزاء تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ ظلم وستم کی تمام راہیں اختیار کی جاتی ہیں، باطل قوتیں ان کے مقابل پر یکجا ہو جاتی ہیں اور اپنی پوری قوت و طاقت سے بچے مامورین کے سلسلہ کی صف لپیٹنے کے نہ صرف دعوے کرتی ہیں بلکہ اس کے لیے ہر ممکنہ کاروائی بھی عمل میں لاتی ہیں۔اس گٹھ جوڑ کو رسول اللہ ﷺ نے الكفر ملة واحدة کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے کہ سچائی کے خلاف معاندانہ کاروائیاں کرنے والوں کا اکٹھ ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں ان کی کیفیت قرآنی آیت تحسبهم جميعاً و قلوبهم شتى (سورة الحشر آیت 15 ) ( ترجمہ: ”تو انہیں اکٹھا سمجھتا ہے جبکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں) کی مصداق ہوتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اپنے مامورین کی سچائی ثابت کرتی رہتی ہے۔جماعت احمد یہ جس کی بنیاد الہی نوشتوں اور آسمانی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام نے 1889ء میں الہی حکم کے تحت رکھی ، ابتداء سے ہی معاندین حق کے اس رویہ کا نشانہ رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی حیات مقدسہ میں ہی فتاویٰ کفر اور بد زبانی سے لے کر مقدمات اور جسمانی ایذاء رسانی بلکہ قتل تک کی کوششوں کا سلسلہ پوری شدومد کے ساتھ شروع کر دیا گیا تھا۔کابل کی سرزمین آج بھی گواہ ہے کہ اسی دور میں وہاں دو معصوموں کا خون صرف اس لیے بہایا گیا کہ وہ امام وقت کی بیعت میں آگئے تھے۔یہ سلسلہ یہاں تھما نہیں بلکہ خون کی یہ پیاس بڑھتی چلی گئی اور ظلم وستم کی ایسی داستانیں تاریخ کے