اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 278 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 278

278 عرض کر دوں در دصاحب نے ایسا انداز بیان اختیار کیا۔خدا نے ان کو بڑی عظمت بخشی تھی۔یعنی ایسی صورتحال تھی کہ وائسرائے (Viceroy) تک کو جھکنا پڑا ، آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جس وقت سیکرٹری تھے مہاراجہ کشمیر تک دہل گیا تھا کیونکہ حضور کی دعائیں ساتھ تھیں۔حضور کے مشوروں سے جاتے تھے۔ولنگڈن کے پاس گئے اور اقرار کر لیا کہ کشمیر کے معاملے میں آپ کو مداخلت کرنی پڑے گی۔دور نہ برٹش ایمپائر کی جمہوریت کی چادر کے اوپر ایسا داغ لگے گا کہ آنے والے نسلیں اور مؤرخ اس کو صاف نہیں کر سکیں گے۔بہر حال ذکر ہورہا تھا قائد اعظم کی تقریر کا۔چنانچہ یہ معرکۃ الآراء تقریر ہوئی۔آپ اگر اس دور کے اخباروں کو دیکھیں تو نہ صرف لنڈن کے اخباروں میں قائد اعظم کی یہ تقریر چھپی ہے بلکہ دوسرے مشہور اخباروں میں بھی اس کی اشاعت ہوئی۔مدراس میل Madras Mail مدراس 7 اپریل 1933ء۔ہندو ، مدراس 7 اپریل 1933ء اور دی ایونگ سٹینڈرڈ (The Evening Standard)، لندن 7 اپریل 1933ء۔Egyptian Gazzette ، سکندریہ۔ویسٹ افریقہ (West Africa) 15 اپریل 1933 ء سٹیٹس مین، کلکتہ (States Man Calcutta)8 اپریل 1933ء۔سنڈے ٹائمنز ،لنڈن (Sunday Times, London)9اپریل 1933ء۔اس تقریر پر ایک شور قیامت برپا ہو گیا۔نواب زادہ لیاقت علی خان اور ان کی بیگم کو مسلم لیگ کے فیصلے کے مطابق فوری طور پر لنڈن بھجوایا گیا۔انہوں نے ملاقات کی اور ان سے ملاقات کے بعد حضرت قائد اعظم نے فیصلہ کیا کہ مجھے واپس آنا چاہئے۔آج دنیا کو کیا پتہ ہے آزادی ہند اور پاکستان کا قیام۔آزادی سے مراد میں صرف مسلم لیگ کی تحریک پاکستان لیتا ہوں۔میں بتا چکا ہوں کہ کانگریس جس آزادی کی علمبردار بنی ہوئی تھی اور احراری جس کے خود کاشتہ پودے تھے وہ مسلمانوں کی آزادی کی تحریک نہیں تھی، وہ مسلمانوں کی ہمیشہ کے لئے بربادی کی تحریک تھی۔م۔ش ( میاں محمد شفیع) صف اول کے قائد اعظم کے پیاروں میں سے تھے اور حمید نظامی صاحب کی طرح صحافت میں انہیں بڑا مقام حاصل تھا جب تک کہ وہ زندہ تھے۔انہوں نے پاکستان ٹائمنر 11 ستمبر 1981ء کو سپلیمنٹ (Supplement) کے صفحہ دو پر مضمون میں لکھا:۔"So disgusted was Mr۔Jinnah with