اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 273 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 273

273 کرتے ہیں کہ مودودی صاحب کے پاس میں پہنچا تو کہنے لگے کہ جہاں تک دعا کا تعلق ہے میں دعا کیسے کر سکتا ہوں۔میں تو اس کو نا پاکستان سمجھتا ہوں۔چنانچہ ان کی کتا میں آپ دیکھیں، آج تو قاضی حسین احمد صاحب جو ہیں اور دوسرے نفس ناطقہ بنے ہوئے۔وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی مخالفت نہیں کی تھی۔آپ اگر دیکھیں تو یہاں تک مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم میں لکھا ہوا موجود ہے اگر ان اصولوں کے ماتحت ، جمہوری اصولوں کے مطابق پاکستان بن گیا تو یہ کافرانہ حکومت ہوگی۔اور ایسی کا فرانہ حکومتیں تو پہلے بھی مسلمانوں کے پاس موجود ہیں۔ترکی مسلمانوں کی حکومت ہے مگر کافر حکومت ہے۔افغانستان کی یہ صورت ہے۔مصر ہے۔دوسری حکومتیں ہیں۔تو یہ بلکہ اس سے زیادہ بدترین ہوگی۔اور ترجمان القرآن میں انہوں نے یہ بات لکھی کہ ہم ہرگز یہ گوارا نہیں کریں گے کہ پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص پشاور جانے والا ہو اور اس کو یہ خوشخبری سنائی جائے کہ کلکتہ کی ٹرین تیار ہے۔تو یہ صورتحال تھی۔مودودی صاحب نے اس وقت جواب دیا کہ میں تو اس کو نا پاکستان سمجھتا ہوں۔دعا نہیں کر سکتا اور سپورٹ کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔(The Nation That Lost Its Soul p۔147 Published by Jang Publishers Lahore) - ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب :۔حضرت مصلح موعود کی اسی پالیسی کی وجہ سے صاحبزادہ فیض الحسن صاحب آلو مہار والے جو ہمارے مشہور مخالف تھے۔وہ بھی چونکہ مسلم لیگ کی طرف سے کھڑے ہوئے تھے۔ان کو بھی احمدیوں نے ووٹ دیئے ہیں۔مولا نا دوست محمد شاہد صاحب :۔اس واسطے کہ ان سے پہلے معاہدہ ہو چکا تھا۔مگر ووٹ صرف انہوں نے دیئے جن کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا۔معاہدہ تو جو کافروں کے ساتھ بھی کیا گیا ہو قرآن کے مطابق اس معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔صلح حدیبیہ میں دیکھیں حضرت ابو جندل کو جو کہ سہیل کے بیٹے تھے، رسول پاک نے کافروں کے حوالے کر دیا تھا۔اسلام اپنے نظام کے لحاظ سے معاہدوں کی پابندی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔اگر دنیا میں معاہدوں کی پابندی حکومتی سطح پر اور اسی طرح غیر سرکاری طور پر عوام میں آجائے تو دنیا کا نقشہ