اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 269 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 269

269 سوالات کا دوسرا دور ( 20 تا 23 اگست 1974ء) اکھنڈ بھارت محترم مولانا صاحب! کچھ وہ سوالات ہیں جو حضور انور سے 20 راگست 1974ء سے 23 راگست 1974 ء تک کئے گئے اور یہ سوالات کا دوسرا دور تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت صاحب سے یہ پوچھا تھا کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اکھنڈ بھارت کے قائل تھے؟ اور اس ضمن میں الفضل 15 اپریل 1947ء کا حوالہ بھی دیا تھا۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب : بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وُلْدِ آدَمَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔اس سوال کے جواب میں کہ حضرت مصلح موعودؓ اکھنڈ ہندوستان کے قائل تھے۔اٹارنی جنرل صاحب نے افضل 15 اپریل 1947 ء کو بطور دستاویز کے پیش کیا تھا۔حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ کا وہ معرکۃ الآراء جواب خصوصی کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے پڑھ کر سنایا جو حضور نے 1953ء کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے پیش فرمایا تھا۔کتا بچہ تحقیقاتی عدالت میں بیان‘ صفحہ 23 پر یہ حوالہ ہے۔اس وقت حضرت مصلح موعودؓ پر جرح کرتے ہوئے 14 جنوری 1954ء کو مذکورہ حوالہ پیش کیا گیا تھا اور اس کے الفاظ یہ بھی تھے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قو میں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔“ حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہوئی۔“ الفضل 5 اپریل 1947ء میں میری تقریر صیح طور پر رپورٹ نہیں نامہ نگار جنہوں نے یہ رپورٹ لکھی وہ اناڑی قسم کے تھے اور بطور رپورٹر کے انہوں نے وہ شائع کی تھی۔"الفضل یہ اہتمام کرتا تھا کہ مجلس عرفان کے خلاصے بھی ساتھ ساتھ منظر عام پر آتے