اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 268
حسینان 268 عالم ہوئے شرمگیں جو دیکھا وہ حسن اور وہ نور جبیں پھر اس پر وہ اخلاق اکمل تریں کہ دشمن بھی کہنے لگے آفریں زہے خلق کامل زہے زہے حسنِ تام عليك الصلواة عليك السلام گھائل کیا محبت نے دلائل سے قائل کیا آپ نے جہالت کو زائل کیا آپ نے شریعت کو کامل کیا آپ نے بیاں کر دیئے سب حلال و حرام عليك الصلوة عليك السلام نبوت کے تھے جس قدر بھی کمال وہ P سب جمع ہیں آپ میں لامحال صفات جمال اور صفات جلال ہر اک رنگ ہے بس عدیم المثال لیا ظلم کا عفو انتقام عليك الصلواة عليك السلام علمدار عشاق ذات یگاں سبه دار افواج قد وسیاں کراں افاضات میں زنده جاوداں معارف کا اک قلزم بے پلا ساقیا آب کوثر کا جام عليك الصلواة عليك السلام