اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 267
267 چھیاں شہد کی چاہئیں۔اس وقت دربار میں ان کے سامنے ایک پوری چھاگل بھری ہوئی تھی۔انہوں نے حکم دیا کہ فورا اس کے گھر پہنچا دو۔آدمی وہاں پہنچانے کے لئے چلا گیا تو مصاحبین میں سے ایک نے کہا کہ حضرت اس نے تو صرف چند چیچیوں کے لئے درخواست کی تھی اور آپ نے پوری چھا گل بھیجوا دی ہے۔تو حضرت ابو ہر یہ ہا نے یہ جواب دیا کہ اس خاتون نے اپنی ضرورت کے مطابق مانگا تھا اور میں نے اپنی وسعت کے مطابق اس کا جواب دیا ہے۔یہی صورت یہاں پر ہے۔ہم اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ الہی جو حضرت ابراہیم کے ساتھ معاملہ کیا تھا اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب آپ سے عرض کرتے ہیں کہ ابراہیم تو اپنے زمانے کے ایک علاقائی نبی تھے۔دائگی اور زندہ نبی اور عالمگیر نبی اور آفاقی نبی محمد عربی ﷺے ہیں اس لئے آپ جو دعا کریں گے وہ تو عالمگیر شان کی حامل ہوگی۔آپ کی ضرورتیں بھی عالمگیر ہوں گی اوّلین کے لئے بھی اور آخرین کے لئے بھی۔اس لئے الہی ! آنحضرت ﷺ جو نبیوں کے سردار ہیں ، جب وہ کوئی دعا کریں اور طلبگار ہو جائیں تو محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو ابراہیم کے ساتھ کیا تھا۔تھوڑا مانگا گیا تھا اور بہت زیادہ آپ کو عطا کیا گیا۔تو شانِ محمدیت کا اظہار کرتے ہیں یہ الفاظ کہ محمد عربی بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔مگر خدا آپ کے ساتھ وہی سلوک کرے گا کہ تھوڑا مانگنے کے باوجود بہت زیادہ عطا کیا جائے گا اسی لئے ساقی آپ کو ثر آپ کو بنایا گیا ہے۔آخر میں ” سلام بحضور سید الا نام ، وو صل الله : علی حضرت سید میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کلام کے چند اشعار پڑھ کر ختم کریں گے۔بدرگاه ذی شان خیر شفیع الوری مرجع خاص بصد عجز و کرتا , الانام عام منت بصد احترام ہے عرض آپ کا اک غلام کہ اے شاہ کونین عالی مقام عليك الصلواة عليك السلام