اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 258
258 مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔دسمبر فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے۔اس لیے اس مہینہ کو د فتح “ کہا جاتا ہے۔اب میں آپ کو یہ بتا تا ہوں کہ اول تو یہ سمجھنا چاہئے کہ شمسی کیلنڈر کا خیال مدت سے صدیوں پہلے مسلمان بادشاہوں کا تھا۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔ہجری شمسی کا ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔ہجری شمسی کا چونکہ قرآن مجید بھی یہ کہتا ہے کہ ہم نے چاند اور سورج کو حسبانا بنایا ہے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ کیلنڈر دونوں قسم کے ہونے چاہئیں مگر اسلامی کیلنڈ رہجری تھا۔حضرت عمرؓ کے زمانے سے جاری ہوا۔تو یہ خیال پڑتا تھا کہ عام دنیا کے لین دین میں شمسی کیلنڈر بھی ضروری ہے اور وہ شمسی کیلنڈر جو کہ ہجرت کے واقعہ کے ساتھ جاری ہوا۔تو یہ خیال ہمیشہ یعنی خود ترکی میں یہ خیال دامنگیر رہا وہاں کے بادشاہوں کو۔حضرت سلطان ٹیپو رحمتہ اللہ علیہ نے ہجری شمسی کیلنڈر بنایا بھی تھا۔ان کے سوانح نگارمحمود بنگلوری صاحب نے لکھا ہے۔سلطنت خداداد میسور میں کہ حضرت سلطان ٹیپو نے اپنی فوج کا نام جماعت احمدی رکھا تھا۔ایک مسجد کا نام مسجد اقصیٰ رکھا تھا۔ایک کا نام مسجد احمدی رکھا اور جو اشرفی سونے کی تھی اس کا نام سکہ احمدی رکھا اور ہجری شمسی کیلنڈر جو تھا اس کا پہلا مہینہ احمدی مہینہ ہی کہلاتا تھا۔وو تو یہ ایک عظیم الشان خدمت تھی جو حضرت مصلح موعودؓ کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ نے کی ہے۔اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دیکھیں جنوری ، فروری ، مارچ ، اپریل یا چیت، بیساکھ۔اس کا اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے۔لیکن کسی ہجری کیلنڈر جس وقت ایک احمدی پڑھتا ہے تو ہر آنے والا مہینہ محمد رسول اللہ ﷺ کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔کتنا بڑا احسان عظیم ہے اور میں آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کیلنڈریعنی ہجری شمسی کیلنڈرسعودی عرب کے اخباروں نے بھی رائج کر دیا ہے۔آپ اگر سعودی عرب کے اخباروں کو پڑھیں 1385 ھش آپ کو اس میں ملے گا۔ہجری سمسی کیلنڈر میں مہینوں کے نام وہ نہیں رکھے۔انہوں نے اپنے حساب سے رکھے ہیں۔یہ ایک شاندار امتیاز ہے۔اسی طرح ایران میں اخبار کیہان انٹرنیشنل بہت مشہور اخبار ہے۔حکومت ایران کا سرکاری ترجمان ، اس میں یہ کیلنڈر استعمال ہوتا ہے۔” اتحاد اسلامی مجاہدین افغانستان کا اخبار