اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 10 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 10

10 10 یہ کہتا ہوں کہ تمام دنیا کے مسلمان مرزا صاحب کی کتابوں کو جلا دیں اور آئندہ کوئی مؤرخ بھی ذکر نہ کرے۔اور خواجہ حسن نظامی صاحب سجادہ نشین حضرت نظام الدین اولیاء نے یہ کہا کہ مرزا صاحب جیسے عالم دین تو فوت ہو گئے ہیں اب احمدیوں کو چاہئے کہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔تو وہ دوراس طرح ختم ہوا۔” تاریخ احمدیت جلد سوم جدید ایڈیشن میں میں نے اس کی تفصیل دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو تاج خلافت پہنایا تو اپنے بھی اور بیگانے بھی ،اپنوں سے مراد عمائدین تھے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بچہ قرار دیتے تھے اور وہ اس خیال کے ساتھ گئے تھے۔چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اس وقت ٹی۔آئی ہائی سکول کی طرف اشارہ کیا کہ ہم تو جا رہے ہیں اور چند دنوں کے بعد یہاں پراتو بولیں گے۔پشاور سے ایک رسالہ شائع کیا گیا کہ ایک بچے کے ہاتھ صدر انجمن احمد یہ سپر د کر دی گئی ہے اور یہ بچہ بھی ڈوب جائے گا اور پھر جماعت بھی ختم ہو جائے گی۔تو اس وقت یہ صورت تھی۔منتظم مخالفت کا وہ جو رنگ تھا اس میں نہ صرف یہ کہ کمی واقع ہوئی بلکہ دشمن کو یقین ہو گیا کہ اب خلیفہ اول کے فوت ہونے کے بعد جبکہ اندرونی کشمکش عروج تک پہنچ گئی ہے اور قیادت اور خلافت کے منصب پر آنے والا بچہ ہے۔دسویں جماعت پاس بھی نہیں ہے تو اب ہمیں اتنے جوش کے ساتھ مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یکا یک انقلاب پیدا کیا۔اس وقت پہلا اشتہار حضرت مصلح موعود کے قلم سے جو شائع ہوا، اس کا عنوان تھا کہ ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔حضور نے اس میں فرمایا کہ میں بچہ سہی مگر یہ بچہ عرش کے خدا کے ہاتھ میں ہے۔کوئی نہیں جو خلافت کا مقابلہ کر سکے۔طوفان اٹھیں گے خدا ان کے رخ کو بدل دے گا۔پہاڑوں جیسے مصائب بھی ہوں گے تو خدا ان کو پاش پاش کر دے گا۔یہ پہلا اشتہا رتھا۔صورت یہ تھی کہ پہلا جلسہ سالانہ خلافت ثانیہ کا جو ہوا میرے پاس وہ ریکارڈ موجود ہے۔افسر جلسہ سالانہ کی جو کہ اس وقت بیت المال کے افسر تھے ) رسید موجود ہے کہ جلسہ سالانہ کے لئے ہمارے پاس کوئی رقم نہیں ہے۔ہم نے حضرت مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی سے پانچ سو روپے ادھار لئے ہیں۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد چہارم جدید ایڈیشن )۔یہ صورتحال تھی اس کے بعد یکا یک دنیا بدلی اور خدا کے فضل سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی دھوم مچ گئی۔