اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 9
9 ان دنوں فیصل آباد میں تھا اور یہ میری ذاتی معلومات ہیں۔“ ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر ، 8 مئی 1987ء صفحہ 50) اور حقیقتاً ایسی کوئی بات تھی بھی نہیں سوائے اس کے کہ کوئی زبانی کلامی بات ہوئی ہو۔تو باور دنیا کو یہ کرایا جاتا ہے۔مگر اختصار کے ساتھ میں عرض کروں گا۔اس پر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقالہ مکمل کر چکا ہوں۔خلاصہ اس کا میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے خلاف بین الاقوامی ایجی ٹیشن کا محاذ حقیقتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہو گیا تھا اور سب سے پہلا کفر کا فتویٰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لگایا۔لیکن وہ آغاز تھا اور اس وقت یہی سمجھا جاتا تھا اور اس وقت کے علماء جن میں مولوی کرم دین صاحب بھیں بھی تھے اور اس کے علاوہ ایک مولوی عبدالاحد خانپوری صاحب تھے۔انہوں نے لکھا کہ مرزا صاحب نے اصلح خیر“ کے نام سے اشتہار دیا ہے کہ ہم دونوں فریق صلح کرلیں۔کم از کم اپنے عقیدے پر ضرور قائم رہیں۔لیکن اسلام کے مطابق اخلاقی اقدار کو پامال نہ ہونے دیں۔یہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے قادیان سے اشتہار دیا۔یہ 1900ء کی بات ہے تو خانپوری صاحب نے راولپنڈی سے ایک کتاب شائع کی۔اس وقت بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا مرزا صاحب مصالحت کی بات کرتے ہیں یہ تو اپنے وقت کے ابو جہل ہیں۔معاذ اللہ۔اور آج نہیں تو چند دنوں تک یہ ختم ہو جائیں گے۔ہمیں کوئی ایسے گھبرانے کی بات نہیں ہے اور مصالحت کا جہاں تک تعلق ہے۔ایک ہی صورت ہے مصالحت کی کہ مرزا صاحب اپنی کتابوں کو جلا دیں ، نذر آتش کر دیں اور حضرت پیر مہرعلی شاہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔تو ان کا خیال یہی تھا کہ یہ مخالفت تو ہم کر رہے ہیں مگر یہ سلسلہ جلدی ختم ہو جائے گا۔تفصیل ملاحظہ ہو ا ظہار مخادعت مسلمہ قادیانی مؤلفه عبدالاحد خانپوری مطبع چودھویں صدی راولپنڈی ) خلافت اولی کے زمانے میں جماعت کو نظام خلافت کے استحکام کے لئے حضرت خلیفہ المسح الاول کی زیر قیادت اپنی پوری طاقت صرف کرنی پڑی اور اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب جیسے عالم دین نے لکھا کہ مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں اس لئے یہ جو مدرسہ احمدیہ بنانے کا قصہ ہے اس کو ختم کرو۔یہ ہمارے کام آئے گا اور میں