اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 241
241 ہیں۔مطعم بن عدی بہت ہی سعید انسان تھا۔اس نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہم محمد ﷺ کے دعوی کو تو تسلیم نہیں کرتے مگر وہ ایک عالی نسب شاہی خاندان کا فرزند ہے۔میں پناہ دیتا ہوں وہ تشریف لا ئیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ اس یقین دہانی کے بعد زید کو لئے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔رات کا وقت تھا۔آپ تصور کریں۔مطعم بن عدی نے اپنے چاروں بیٹوں کو کہا کہ تلواریں سونت لو اور آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان کو اپنے ہالے میں، دائرے میں لے کر خانہ کعبہ تک لے جاؤ۔نبیوں کا سرداران چار بیٹوں کے دائرہ میں آہستہ آہستہ خانہ کعبہ تک پہنچا ہے۔وہاں جا کر مطعم بن عدی جو اونٹنی پر سوار تھے۔یہ ابن ہشام کی روایت ہے اور دوسری مستند تاریخوں میں موجود ہے۔اس وقت کھڑے ہو کر بلند آواز میں مطعم بن عدی نے یہ آواز دی اور کہا یا معشر قریش صلى الله قد اجرت محمدا۔اے اہل قریش میں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی ہے۔فلا تخضلوہ اسے بیگانہ نہ چھوڑ دینا۔ولا تؤ ذوہ اور اس کو تکلیفوں کا نشانہ نہ بنانا۔سیرة الحلبیہ، باب ذکر خروج النبی الی الطائف۔جلد اوّل صفحہ 507) اس اعلان کے بعد جو گویا Tribal System کے مطابق اسے ویزا کہہ سکتے ہیں آج موجودہ Terminology کے لحاظ سے حضور نے اس کے بعد ان کی اجازت سے طواف کیا خانہ کعبہ کا اور پھر ان سے اجازت لی کہ میں اپنے گھر جا سکتا ہوں۔یہ تعامل تھا محمد عربی ﷺ کا۔تو آج دنیا میں اس اسوہ محمدی کا پرچم سوائے احمدیوں کے کسی کے پاس نہیں ہے۔اسی لئے ہم کہتے ہیں اور ہمارے آقا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرما چکے ہیں کہ دنیا کا امن جماعت احمد یہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ابھی پچھلے سال 2005 ء میں میں قادیان گیا تھا۔ایک رات کو وہاں ہند سماچار کے ایڈیٹر تشریف لائے۔ان سے گفتگو ہوئی۔آخر میں ایک بات ہوئی۔بہت ساری باتیں تھیں۔میں نے ان سے یہ بات کہی کہ آج دنیا پر یہ کھل گیا ہے کہ باوجود یکہ دنیا بڑی فارورڈ ہو چکی سائنسی لحاظ سے۔دنیا کے انقلاب کی کوئی مثال نہیں۔آج ہر چیز دنیا کے سامنے ہے۔مگر یہی ایک مصیبت کا پیش خیمہ بن گیا ہے اور جو امن کا دعوی کرنے والے ہیں وہ بموں سے اور قتل وغارت سے امن کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں۔تو آپ جانتے ہیں کہ ایسی صورت میں تو کبھی امن نہیں قائم ہو سکتا۔امن صرف اس صورت میں قائم ہو سکتا ہے کہ دنیا میں ان پاک نفس اور معصوموں کی