اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 242
242 اکثریت ہو جائے جو آنحضرت ﷺ اور حضرت یوسف کی طرح قانون کی اطاعت کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہو اور وہ ایک امام کے ماتحت ہو اور میں نے کہا کہ سوائے جماعت احمدیہ کے کون ہے جو یہ دعویٰ کر سکے۔انہیں ماننا پڑا کہ حقیقتاً جماعت احمدیہ سے ہی دنیا کا امن وابستہ ہے۔تو ہم نے، جماعت احمدیہ نے حضرت مصلح موعودؓ کی قیادت میں تحریک آزادی میں حصہ لیا اور تحریک آزادی سے مراد ہماری نگاہ میں مسلم لیگ کی تحریک پاکستان ہے۔ہم اسی کو تحریک آزادی سمجھتے ہیں ورنہ ملاں جس کو تحریک آزادی سمجھتا ہے ہم اس کو تحریک بر بادی کہتے ہیں۔اس لئے آپ یہ دیکھیں کہ عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے مسجد خیر الدین امرتسر میں تقریر کی اور یہ تقریر اخبار ” مجاہد ( 11 مئی 1936ء صفحہ 4 کالم 1۔2) میں شائع شدہ موجود ہے۔وہ تقریر اس عنوان سے چھپی۔احرار پولیٹکل کانفرنس امرتسر میں آزادی کا پرچم لہرانے کی تقریب پر حضرت امیر شریعت کی حریت پرور تقریر۔“ اب وہ حریت پرور تقریر ی تھی:۔یہ بھی جلی قلم سے عنوان ہے۔وو ہندوستان صرف ہمارا اور ہمارا ہی وطن ہے۔مسلمانوں کا فرض 66 ہے کہ آزادی حاصل کر کے دیگر اقوام کے سامنے بطور تحفہ پیش کریں۔“ اور اس کی وضاحت اس رنگ میں انہوں نے کی ہے، کہتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی ہم نے سلب کی تھی۔آپ ذہنیت دیکھیں۔مراد یہ ہے کہ محمد بن قاسم مسلمان تھے۔انہوں نے ہندوستان کے رہنے والوں کو غلام بنالیا تھا۔اس جرم کی سزا کے طور پر ہم مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ جس طرح محمد بن قاسم نے یہ جرم کیا تھا کہ ہندوستان کے رہنے والوں کا خون بہایا اور پھر ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ہمیں اب اپنے خون کی قربانی دینی چاہئے ہندوستان کی آزادی کے لئے۔مگر جب ہندوستان آزاد ہو جائے تو یاد رکھو کہ ہمیں کسی آزاد ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارا یہ فرض ہوگا کہ ہم ہندوستان کی آزادی کے بعد آزادی کا تحفہ پنڈت جواہر لعل نہرو کی خدمت میں پیش کر دیں اور خود خدمت خلق میں شامل ہو جا ئیں۔