اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 236 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 236

236 اس شہنشاہ ( خداوند قدوس) کی تو یہ شان ہے کہ اگر چاہے تو لفظ گن سے کروڑوں نبی ، ولی، جن ، فرشتے ، جبرائیل اور محمد یو کے برابر ایک آن میں پیدا کر دے۔66 ( تقویۃ الایمان صفحہ 38 ناشر دار الاشاعت اردو بازار کراچی) الفضل 1948 ء کا حوالہ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ سوال اٹھایا گیا کہ آپ کے لٹریچر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یعنی احمدیوں نے ہمیشہ ملت اسلامیہ سے علیحدگی کی راہ اختیار کی اور اس پر انہوں نے والفضل 1948ء کا ایک حوالہ پیش کیا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی حرکت پیدا ہوئی تو ہم اس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔تو یہاں اٹارنی جنرل صاحب نے پوچھا کہ مذہب اور کھا جانے سے کیا مراد ہے؟ مولا نا دوست محمد شاہد صاحب: حضرت خلیفہ مسیح الالث کا جواب ہ تھا کہ سیدنا حضرت تھا مصلح موعودؓ نے اس خطبہ میں غیر مسلموں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ خدا نے ہمیں وہ دلائل دیئے ہیں کہ ان کے سارے قلعے پاش پاش ہو جائیں گے۔اب دیکھیں عیسائیت کے متعلق مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ عظیم الشان ریسرچ دنیا کے سامنے پیش کی کہ مسیح علیہ السلام بچالئے گئے تھے اور اس کے بعد نصیبین کے شہنشاہ کی کوشش کے نتیجہ میں پھر وہ افغانستان کے رستے سے سرینگر پہنچے۔کیونکہ اس وقت بدھوں کی حکومت تھی اور بدھوں کی حکومت میں یہ سارے رستے بڑے کھلے بنائے جارہے تھے کیونکہ بدھ چاہتے تھے کہ بیرونی دنیا سے بھی ان کا تعلق ہو۔اور اشوک کے زمانہ میں سرینگر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔تو اس وقت حضرت مسیح ابن مریم نے یہ صورت اختیار کی کہ جب انہیں زندہ صلیب سے اتارا گیا تو ان کے زخم کے لئے مرہم تیار کی گئی۔اور یہ آپ نے تاریخی لٹریچر سے ثابت کیا۔بلکہ انجیل سے ثابت کیا کہ مسیح علیہ السلام زندہ بچالئے گئے تھے۔یہ میں اپنی بات بیان کر رہا ہوں۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔آپ نے بیان کیا ہے کہ حضور نے یہ فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اس خطبہ میں غیر مسلموں کا ذکر کیا ہے!