اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 232
232 مزید میں نو جوانان احمدیت کے اضافہ علم کے لئے یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیشہ مخالفین کا یہ طریق رہا ہے کہ ایسی عبارتیں جو کہ اسلام کے دشمنوں کے متعلق تھیں، احراری علماء ان کو مسلمانوں پر چسپاں کر کے اشتعال پیدا کرتے ہیں۔خود یہ واقعہ میرے سامنے ہوا۔غالباً راولپنڈی کی احرار کا نفرنس میں احسان شجاع آبادی صاحب کی تقریر تھی اور اس میں کہا کہ دیکھو مسلمانو! یہ مرزا صاحب نے ایک ہزار لعنت ہم پر بھیجی ہے۔لعنت، لعنت، لعنت۔یہ دیکھو اصل کتاب موجود ہے۔اب قصہ یہ ہوا کہ چند سالوں کے بعد، یہ تو خلافت ثانیہ کی بات ہے۔خلافت ثانیہ کے وسطی دور کی کہنی چاہئے پاکستان کے لحاظ سے لیکن اسی دور کے آخر کی بات ہے۔اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، ہمارے پیارے امام حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے دادا اور مبشر اولاد میں سے، خدا کے شیروں میں سے بہت عظیم شیر ، جن کے متعلق بے شمار خدائی بشارتیں تھیں۔ان دنوں آپ ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تھے۔اس وقت ناظر دعوت و تبلیغ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔حضرت میاں صاحب کی طرف سے مجھے یہ ارشاد آیا کہ دنیا پور میں لال حسین صاحب اختر کی تقریریں ہو رہی ہیں اور بڑا اشتعال پھیل رہا ہے تو تمہیں حضور نے اجازت دے دی ہے۔فور اوہاں پر پہنچو۔میرا دفتر اس وقت بیت مبارک ربوہ کے بالکل ساتھ تھا اور میں اور میرے بچے اس وقت دار النصر میں رہتے تھے۔جس وقت یہ ارشاد موصول ہوا میں نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں لکھا کہ یہ ارشاد میاں صاحب کا ملا ہے اور چونکہ حضور کی اجازت اس میں موجود ہے تو میں عاجزانہ طور پر درخواست کروں گا کہ میری اہلیہ شدید بیمار ہیں ، حضور ان کی شفایابی کے لئے دعا کریں اور اب میں اسٹیشن کی طرف روانہ ہوں۔پھر جب میں واپس آیا تو میری اہلیہ بالکل شفایاب تھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔بہر حال میں گھر بھی نہیں گیا، کپڑے بھی نہیں تھے میرے پاس اور انہی کپڑوں میں میں اسٹیشن پر پہنچا اور رات ملتان رہا۔اس وقت امیر جماعت ہمارے عبدالحفیظ صاحب کے والد تھے، چوہدری عبدالرحمن صاحب۔بہت ہی بزرگ انسان تھے۔ان کے پاس پہنچا۔انہوں نے کہا کہ صبح سویرے میں اپنی گاڑی پر تمہیں دنیا پور پہنچاؤں گا لیکن میں نے ان کے بیٹے جو اس وقت ایڈووکیٹ تھے اور اب بھی ہیں، اس وقت پریکٹس کر رہے تھے۔میں نے ان سے کہا