اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 225
قائد اعظم کا جنازہ؟ 225 حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا ! کیا قائد اعظم کے جنازے کا بھی کوئی ذکر ہوا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔جنازے کا بھی ذکر تھا۔حضور نے ، جہاں تک مجھے یاد ہے، میں حتمی بات نہیں کہہ سکتا۔حضور نے اس موقع پر جو بات بیان کی وہ یہی تھی ، جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے کہ جماعت احمدیہ کا ایک موقف ہے کہ جو جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہم ان کا جنازہ نہیں پڑھتے مگر جنازہ نہ پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی نگاہ میں وہ خدا کی عطا کردہ مغفرت سے محروم ہو جائے گا۔یہ ایک امام زمانہ کی طرف سے اس وقت ارشاد ہوا، جبکہ احمدیوں کے بچوں کو جنازہ پڑھنے کی بجائے انہیں کتوں کی طرح پھینک دینے کا قصہ ہوا تھا۔تو حضور نے فرمایا جب ایسی صورت ہے تو کسی اور کے پاس جا کے، کسی مجمع میں پہنچ کے کسی اور کا جنازہ پڑھنے کی بجائے ہمیں یہ چاہئے کہ ہم کسی کے جنازہ میں شامل نہ ہوں۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں خود احمدیوں کے اوپر حملہ ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ اگر آپ کتاب پڑھیں اظہار مخادعات مسلمہ قادیانی۔“ یہ کتاب 1901ء یا 1902ء کے قریب چھپی ہے۔اس کے لکھنے والے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے مرید مولوی عبدالاحد خانپوری ہیں اور مطبع چودھویں صدی راولپنڈی سے چھپی ہے۔میرے پاس موجود ہے۔اس کا نام ہے اظہار مخادعات مسیلمہ قادیانی اور یہ اس اشتہار کے جواب میں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الصلح خیر“ کے نام سے دیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اسلام میں کم از کم یہ تو ہے کہ اختلاف نظریہ کے نتیجہ میں کسی دوسرے کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے تو مسلمان علماء سے کہتا ہوں کہ اختلاف اپنی جگہ پر رکھیں، میرے خلاف دلائل بھی دیں، مناظرے بھی کریں لیکن زبان تو کم از کم بازاری نہ استعمال کریں۔شائستہ زبان استعمال کریں۔قرآن کا یہ ارشاد ہے، حدیث کا ارشاد ہے بلکہ خدا تو فرماتا ہے کہ کافروں کو بھی گالی نہ دو۔مشرکوں کو بھی گالی نہ دو کیونکہ اس کا رد عمل بڑا خطرناک ہو سکتا ہے۔اس کے جواب میں راولپنڈی یہ سے کتاب چھپی ، اور اس میں انہوں نے لکھا کہ دراصل مرزا صاحب نے تنگ آکر یہ صلح خیر رکھی ہے اور اپنے مرزائی جو ماننے والے ہیں ان کو تسلی دلائی ہے کہ تمہیں جو ایک بڑی قیامت سے دو چار ہونا پڑا ہے کہ