اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 224
224 مسلم لیگ کا ممبر کون بن سکتا ہے؟ یہ سوال خاص طور پر قادیانیوں کے سلسلا میں پوچھا گیا۔میرا جواب یہ ہے کہ جہاں تک آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کا تعلق ہے، اس میں درج ہے کہ ہر مسلمان بلا تمیز عقیدہ وفرقہ مسلم لیگ کا ممبر بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ مسلم لیگ کے عقیدہ، پالیسی اور پروگرام کو تسلیم کرے۔رکنیت کے فارم پر دستخط کرے اور دو آنے چندہ ادا کرے۔میں جموں و کشمیر کے مسلمانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ فرقہ وارانہ سوالات نہ اٹھائیں۔“ (اخبار اصلاح سرینگر 13 جون 1944 ء صفحہ 2) لیکن ظلم و ستم کی حد یہ ہے کہ وہ کشمیر جس کی خاطر جماعت احمدیہ نے اپنے محبوب امام کی قیادت میں کشمیر کمیٹی کے پلیٹ فارم کے ذریعہ سے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور آزادی کا جھنڈا لہرایا۔سب سے پہلے اس کے غیر مسلم قرار دیئے جانے کی قرار داد کشمیر نے پیش کی اور پیش کرنے والے سردار عبدالقیوم صاحب تھے جنہوں نے اپنی کتاب ” مقدمہ کشمیر میں یہ لکھا ہے کہ میں جب جنگ عظیم کے دوران عرب ملکوں میں تھا تو میرے یہودیوں کے ساتھ بڑے تعلقات تھے اور اکثر جو میں مشورے دیتا تھا ان پر عمل کرتے تھے۔(صفحہ 13 ) یہودیوں کے اس ایجنٹ نے سب سے پہلے کشمیر میں ہی قائد اعظم کی مخالفت کرتے ہوئے مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد پیش کی۔قائد اعظم نے فرمایا کہ میں جموں وکشمیر کے مسلمانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ فرقہ وارانہ سوالات نہ اٹھائیں بلکہ ایک ہی پلیٹ فارم پر اور ایک جھنڈے تلے جمع ہو جا ئیں۔اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے۔اس سے نہ صرف مسلمان موثر طریقے سے سیاسی ،سماجی تعلیمی اور معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں بلکہ دیگر اقوام 66 بھی اور بحیثیت مجموعی ریاست کشمیر بھی۔“ اصلاح سرینگر 13 جون 1944 ء صفحہ 2)