اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 8
8 ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب وحافظ محمد نصر اللہ صاحب :۔جزاکم اللہ تحریک 1974ء کا پس منظر حافظ محمد نصر اللہ صاحب : مولانا صاحب! ہم آپ سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔سب سے پہلے تو اس حوالے سے ہم یہ پوچھنا چاہیں گے کہ 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کے حوالے سے پیش ہونے والی قرار داد کا پس منظر کیا ہے؟۔کیا فوری کچھ ایسے عوامل پیدا ہو گئے تھے کہ جن کی وجہ سے یہ قرار داد پیش کرنا پڑی یا اس کے پیچھے کوئی بہت لمبی Background ہے۔؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب: حق یہی ہے کہ بظاہر آج تک دوسرے حلقے دنیا کو یہی باور کراتے ہیں کہ ایک سانحہ ربوہ میں ہوا۔جس میں ”قادیانیوں“ نے دوسرے مسلمان طلباء جونشتر میڈیکل کالج ملتان کے تھے، ان کی زبانیں کاٹ دیں، ان کو مارا پیٹا اور بڑی خونچکاں حکایات پیش کر کے کہا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں پاکستان اور عالم اسلام کو خیال آیا کہ ان کو غیر مسلم قرار دینا چاہئے۔جیسا کہ آئندہ چل کر بیان کروں گا، یہ ضرب خفیف کا واقعہ تھا، کسی ایک مسلک کے طلباء کا دوسرے مسلک کے طالب علموں کو مارنے کے واقعات ہیں۔اس پاکستان میں تو قتل و غارت کے روزانہ واقعات ہو رہے ہیں، ہر جگہ ہورہے ہیں، ہر سوسائٹی میں ہورہے ہیں۔ہر شہر میں ہور ہے ہیں، تو اس کے نتیجے میں کسی کو مسلم یا غیر مسلم قرار دینا ایسی ہی بات ہے جس طرح کہا جائے کہ چونکہ چاول سفید ہیں لہذاز مین گول ہے۔ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔زیادہ سے زیادہ یہ بات تھی کہ معاملہ عدالت میں دیا جاتا۔چنانچہ صمدانی عدالت میں پیش کیا گیا اور انہوں نے صاف طور پر کہا کہ واقعات سے ثابت ہے کہ یہ سارا قصہ مارنے کا سوائے ضرب خفیف کے کوئی بات نہیں تھی۔نشتر میڈیکل کالج ملتان کے سٹوڈنٹس جب لائل پور (فیصل آباد) میں پہنچے اور علماء نے سٹیج مولوی تاج محمود صاحب کی زیر نگرانی پہلے سے تیار کیا ہوا تھا۔تو جناب جی ایم پراچہ صاحبکمشنر گوجرانوالہ ڈویژن کہتے ہیں کہ یہ بالکل غلط ہے کہ ان لڑکوں کی زبانیں کاٹی گئیں۔وہ بکروں کی زبانیں تھیں جنہیں خون لگا کر رکھا گیا تا کہ عوام میں اشتعال پیدا ہو۔میں خود