اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 221
221 گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں کسی گاؤں کے ایک نئے احمدی ہونے والے نمبر دار نے یہ فریاد کی کہ حضور احمدی ہونے سے پہلے تو میری بڑی عزت تھی اور بڑا احترام کیا جا تا تھا اور پبلک کی محبت کی نگاہیں مجھ پر تھیں۔اور اب جہاں جاتا ہوں گالیوں کے سوا کوئی بات نہیں کرتا۔حضور اس کا جواب دینے کی بجائے گھر تشریف لے گئے اور بہت بڑا بنڈل ہاتھ میں لئے ہوئے واپس تشریف لائے جو بیرنگ لفافوں کا تھا۔وہ ان کے سامنے رکھا اور کہا کہ میاں اس قوم نے اس موعود کو بھی نہیں چھوڑا جسے محمد رسول اللہ ﷺ نے سلام کہنے کے لئے ارشاد فرمایا تھا۔دیکھیں عجیب بات ہے۔اس میں بھی پیشگوئی تھی دراصل، میں نے اس پر غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔یہ میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ پیشگوئی تھی کہ دنیا اس کو گالی دے گی اور اسلام کی بجائے کفر کی طرف اس کو منسوب کیا جائے گا۔لیکن محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے امام مہدی کو بتا دیا تھا۔تم فکر نہ کر وہ ساری دنیا کی گالیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔محمد رسول اللہ کی طرف سے تمہیں سلام دیا جا رہا ہے۔جسے خدا کا نبی سلام کہتا ہے کون ہے جو اسے غیر مسلم قرار دے سکے۔اور ان گالیوں کی کیا حیثیت ہے جو خدا کے مہدی کو دی جاتی ہیں؟ غیر احمدی بچوں کا جنازہ؟ افظ حمد مرالہ صاحب :- اگلا سال حضرت خلیفہ اسیح الثالثسے یہ ہوا کہ غیراحمدی بچوں کا جنازہ آپ لوگ کیوں نہیں پڑھتے ؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔حضور نے اس کا بڑا واضح جواب دیا۔فرمایا :۔”ہمارا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی غیر احمدی مسلمان وفات پا جائے۔اور احمدیوں کے سوا اور کوئی مسلمان موجود نہ ہو تو احمدیوں پر اس کا جنازہ پڑھنا 66 واجب ہے۔" یہ حضور کا جواب تھا۔