اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 222 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 222

222 اب اس تعلق میں مزید میں یہ ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ میرے پاس اس وقت 29 نومبر 1985ء کی ایک تحریر ہے کمال یوسف صاحب جو اس وقت ناروے میں تھے، مولانا کمال یوسف صاحب جنہوں نے سکینڈے نیوین مشن کی بنیاد رکھی۔انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی خدمت میں فون کیا کہ ڈیڑھ ماہ کا غیر احمدی بچہ فوت ہو گیا ہے۔غیر احمدیوں نے اس کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا ہے۔بچے کے والد نے مجھ سے نماز جنازہ پڑھنے کا کہا ہے۔آج ایک بجے جنازہ ہے۔حضور انور سے استصواب ہے۔یہ پیغام حضور کی خدمت میں مولانا مجید احمد صاحب سیالکوٹی نے پیش کیا تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قلم مبارک سے لکھا کہ ان حالات میں بچے کی نماز جنازہ ضرور پڑھائی جائے۔یہ موقف ہے ہمارا۔اس کے مقابل پر غیر احمدی علماء جو کہ آج تک یہ اعتراض کرتے ہیں، ہمیں ظالم قرار دینے کے لئے اور اپنی معصومیت کا اظہار کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے۔ان کا فتویٰ بھی اب سن لینا چاہئے۔کیونکہ تصویر کا دوسرا رخ جب تک نہ ہو صحیح تاریخ دنیا کے سامنے نہیں آسکتی۔یہ متفقہ فتاوی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر 1891 ء سے لگائے جا رہے ہیں۔جو حوالے بچوں کے متعلق پڑھے جاتے ہیں انوار خلافت“ سے، وہ تو خلافت ثانیہ کے آغاز کے ہیں۔یہ اس سے قبل کے فتاوی ہیں۔حضور نے تو اسمبلی میں یہ بیان فرمایا تھا کہ ہم نے کوئی فتویٰ نہیں دیا۔فتوے علماء نے دیئے ہیں۔1891ء میں کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ اس سے پہلے جماعت کی طرف سے کوئی فتوی دیا گیا ہو۔برسوں کے بعد اس کے جواب میں ہم نے کارروائی کی ہے۔تو جو ظالم ہے اس کے گریبان کو پکڑنا چاہئے۔اب آپ دیکھیں فتوی کیا ہے؟ ایک طرف یہ فتویٰ اور دوسری طرف یہ متفقہ فتاوی علماء دیو بند 1336ھ میں پہلی دفعہ شائع ہوا اور 1369ھ میں پانچویں بار یہ شائع ہوا ہے۔تو دیکھیں کتنی کثرت کے ساتھ اس کی اشاعت ہوئی ہے۔ادارہ اسلامیات انارکلی لاہور نے یہ پانچویں بار شائع کیا ہے۔فتویٰ کے الفاظ ہیں:۔جماعت مرزائیہ مرتد خارج از اسلام ہے۔سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے۔اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔اور اس کی عورت اس پر حرام ہوگئی اور اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرے گا وہ زنا ہے۔“ اب دیکھیں یہ فتویٰ کیا ہے؟ کوئی شریف النفس انسان اس کا تصور بھی کرے تو وہ حیرت