اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 219
219 مسلمانوں پر دشنام دہی ؟ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب : ” آئینہ کمالات اسلام کے حوالے سے یہ الزام عموماً دہرایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کو ذرية البــغــایا کہ کر گالی دی ہے۔یہ سوال حضور پر بھی کیا گیا۔اس کا جواب حضور نے کیا عطا فرمایا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔حضور نے اس کا بڑا واضح اور جامع اور مختصر جواب یہ ارشاد فرمایا کہ اس میں متعصب اور متشد د عیسائیوں کی نسبت پیشگوئی ہے کہ وہ ہرگز اسلام نہیں لائیں گے۔اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ:۔وو " الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم ، " ،، پہلے ذکر ہے کہ میں اسلام کی دعوت بلند کر رہا ہوں۔براہین احمدیہ کا ذکر ہے۔سرمہ چشم آریہ کا ذکر ہے۔اور عیسائیوں کے ساتھ مقابلہ کا ذکر ہے۔یہ آئینہ کمالات اسلام“ کے ضمیمہ میں جو عربی پر مشتمل ہے، آپ اس کو ملاحظہ فرما ئیں تو اس میں الفاظ یہ ہیں۔خود حضور نے ذرية البغايا کے معنی کئے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے۔” الــذيــن ختم الله على قلوبهم ، جن کے دلوں پر اللہ کی مہر ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوں گے۔ان کے سوا اللہ تعالیٰ میرے لٹریچر کے ذریعہ سے سب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دے گا۔اور یہ ذریۃ البغایا کا جو لفظ ہے، وہ پہلے بزرگ بھی ان معنوں میں استعمال کرتے آئے ہیں کہ جس کے معنی بد نصیب کے ہیں۔اس کا جوروٹ (Root) ہے اصل عربی زبان کے لحاظ سے بغی اور دوسرے بھی ہیں۔ان سب کے الگ الگ معنی ہیں اور ایک محقق انسان انہی معنوں کو ترجیح دے گا جو صاحب تالیف نے خود بیان کئے ہیں۔اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے دراصل خود گالی دی ہے۔مگر نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس کے اوپر لگا دیا ہے۔چنانچہ آپ حیران ہوں گے کہ مفتی محمود صاحب کی ایک کتاب ” المتنبي القادیانی ‘استنبول سے شائع ہوئی تھی۔یہ میرے پاس موجود ہے اور اس نے اصل حوالہ کی بجائے اپنی طرف سے معنی بیان کر کے پورا حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اب وہاں الفاظ تو یہ تھے کہ الذین ختم الله علی قلوبھم لیکن ان لوگوں